اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 168 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 168

۱۷۲ پورا کرنے میں کوشاں رہیں۔فی الحال میں نے اس غرض کے لئے ایک ناظر اعلیٰ ، ایک ناظر تالیف واشاعت، ایک ناظر تعلیم و تربیت، ایک ناظر امور عامہ اور ایک ناظر بیت بقیہ حاشیہ:- اجلاس مجلس معتمدین نمبرے مورخہ ۱۸-۹- ا کے فیصلہ نمبر ۳۰۷ میں ۴ ستمبر سے چار ماہ کے لئے تقرر کا ذکر ہے مطابق قائم مقام سیکرٹری ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کی جگہ آپ کے سپرد یہ منصب بھی ہوا۔۱۹۲۰ء میں آپ اور میر محمد اسحق صاحب قائم مقام جنرل سیکرٹری ہوئے۔۴۸، ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کے قائم مقام آپ کے بطور جنرل سیکرٹری تقریر کا فیصلہ مجلس معتمدین ۳۸۱ مورخہ ۲۰-۹-۲۰ میں ہے۔۱۹۲۱ء میں بھی بطور قائم مقام آپ نے یہ خدمت سر انجام دی۔چنانچہ الفضل ۲۱-۱-۲۷ میں زیرہ مدینہ المسیح ، یہ امر مرقوم ہے۔یہ معلوم نہیں کہ سابقا تقرری کے بعد مسلسل کام کیا یا کبھی کبھی تقر ر ہوتارہا۔اسی طرح اپریل ۱۹۲۲ء سے نومبر ۱۹۲۳ء تک کے متعلق یہ معلوم نہیں کہ آپ کا بار بار تقر ر ہوتا رہایا مسلسل اس عہدہ پر متعین رہے۔اجلاس معتمدین صدر انجمن احمد یہ نمبر ا مورخہ۲۲-۴ - ۲۷ میں آپ کی تقرری کا بطور قائمقام کے فیصلہ ہوا۔نیز جلسہ سالانہ ۱۹۲۲ء کے موقع پر آپ نے سیکرٹری کی حیثیت سے صدر انجمن احمدیہ کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔۲۹ ۸/ نومبر ۱۹۲۳ء کو گورنر پنجاب سے جو وفد ملاقی ہوا۔اس وقت آپ سیکرٹری تھے۔۵۰ اس سال کی رپورٹ مشاورت میں بھی یہی عہدہ درج ہے۔(ص۳۰) نائب افسر یا افسر بہشتی مقبرہ۔اس کے متعلق الگ عنوان سے تفصیل درج ہے۔کچھ عرصہ صیغہ تعمیر و صیغہ جائیداد بھی اس کے ساتھ شامل رہا۔-Y افسر صیغہ تعمیر۔۱۹۱۷ء اور ۱۹۱۸ء میں۔۱۹۱۷ء میں بروئے اجلاس مجلس معتمدین صدرانجمن احمد یہ نمبر ا مورخہ ۲۵ جنوری ۱۹۱۷ء فیصلہ نمبر۱۷ اس سال کے لئے آپ افسر تعمیر مقرر کئے گئے۔۱۹۱۸ء میں بھی آپ اس صیغہ کے افسر رہے۔اس وقت تک یہ کام بہت مختصر تھا۔عملہ کا خرچ ڈیڑھ صد روپیہ سالانہ سے بھی کم تھا اور سائز کا قریباً پونے پانچ ہزار ۵۱ خدمات بہشتی مقبرہ کے تعلق میں دوسری جگہ قدرے مزید تفصیل دی گئی ہے۔قائم مقام افسرصیغہ مساکین ، یتامی و زکوۃ۔۱۹۱۸ء میں۔( رپورٹ سالانہ ۱۸-۱۹۱۷ ء ص ۱۵۔و -L -^ رپورٹ ۱۹ - ۱۹۱۸ ء ص ۱۵۔مؤخر الذکر میں صیغہ کا نام وظائف وصدقات“ لکھا ہے۔) ناظر تعلیم و تربیت۔متن میں ذکر کیا گیا ہے نظارتوں کی موجودہ تشکیل دسمبر ۱۹۱۸ء میں ہوئی اور پانچ نظارتوں پر چار بزرگوں کا تقر عمل میں آیا تھا۔ناظر تعلیم و تربیت آپ مقرر کئے گئے۔