اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 167 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 167

121 سرانجام دینے کے لئے چند ایسے افسران مقرر کئے جائیں جن کا فرض ہو کہ وہ حسب موقع اپنے متعلقہ کاموں کو پورا کرتے رہیں اور جماعت کی تمام ضروریات کے بقیہ حاشیہ: - ۲۴- ۱۹۱۸ء میں افتاء کے لئے بشمول آپ کے تین علماء مقرر ہوئے لیکن بعد ازاں آپ ہی تا وفات مفتی سلسلہ احمد یہ رہے اور ۱۹۴۳ء میں سہ رکنی مجلس افتاء کے قیام پر آپ اس کے رکن -1 -۲ -✓ تھے اور ۱۹۴۶ء میں بیمہ زندگی کی متبادل سکیم پر غور کرنے والی مجلس کے بھی رکن تھے۔ہر عہدہ سے متعلق حوالجات رقم کئے جاتے ہیں۔تعلیم و تدریس کے علاوہ آپ کی تمام خدمات اعزازی تھیں۔تعلیم وتدریں۔اس بارہ میں ایک الگ عنوان " تعلیمی خدمات کے تحت تفصیل کتاب میں ہے۔رسالہ تعلیم الاسلام اور رسالہ ”تفسیر القرآن کی ادارت۔(اس کا بھی الگ تفصیلاً ذکر زیر عنوان تفسیر القرآن کیا گیا ہے) ۱۸ - ۱۹۱۷ ء تا ۲۰- ۱۹۱۹ء میں مجلس معتمدین کے رکن ( ہر سہ رپورٹ ہائے سالانہ ص ۲ رپورٹ سالانہ بابت ۱۸ - ۱۹۱۷ ء مندرجہ الفضل ۱۹-۱۰-۲۹ ص ۳ ک۳) اس وقت صدرانجمن کا سال یکم اکتو بر لغایت ۳۰ ستمبر شمار ہوتا تھا۔اجلاس مجلس معتمدین صدر انجمن احمد یہ نمبر ۹ مورخه ۱۷-۷-۱۵ کے لئے آپ میر مجلس (صدر مجلس ) مقرر ہوئے۔اس اجلاس میں پینتیس امور زیر فیصلہ تھے۔سیکرٹری مجلس نواب محمد علی خان صاحب اور دیگر ارکان ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب، مولوی شیر علی صاحب و میر محمد الحق صاحب تھے۔جنرل سیکرٹری صد را انجمن۔نواب محمد علی خان صاحب صدر انجمن کے جنرل سیکرٹری تھے۔ان کے قائم مقام میر محمد الحق صاحب اور پھر مولوی محمد دین صاحب ( حال ناظر تعلیم و تربیت ربوہ ) مقرر ہوئے بعد ازاں ۴ ستمبر ۱۹۱۸ء سے ۱۱/جنوری ۱۹۱۹ ء تک مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب بطور قائم مقام فرائض انجام دیتے رہے۔٤٦ میر مجلس مولوی شیر علی صاحب اور نائب سیکرٹری شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی تھے۔جنرل سیکرٹری اس زمانہ میں محاسبہ کمیٹی کا رکن ہوتا تھا۔( ص ۱۳-۱۰) الفضل میں مرقوم ہے کہ: ”جناب ماسٹر محمد دین (صاحب) کے رخصت لینے پر جناب مولانا مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب سیکرٹری صد را انجمن احمدیہ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔۴۷