اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 137 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 137

۱۴۱ گھر بھی بھیج دیا کرتے تھے بلکہ کئی بار کپڑے بھی حضور نے بھجوائے ہیں آپ یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ رخسانہ ہوکر میں قادیان پہنچی تو اس سے پہلے منارہ مسیح کی بنیاد رکھی جا چکی تھی اور مزدور وہاں کٹائی کرتے تھے جس کی آواز گھر میں سنائی دیتی تھی۔آوازسن کر میں نے مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ یہ کیسی آواز ہے۔تو انہوں نے بتایا کہ منارہ مسیح کی بنیاد پر مزدور کٹائی کر رہے ہیں۔* حضور کی اولین زیارت کا موقع مجھے رخصتا نہ ہو کر قادیان آنے پر ہی ملا تھا۔* منارة امسیح کے سنگ بنیادرکھا جانے کی تاریخ ۱۳/ مارچ ۱۹۰۳ء ہے۔ڈائری حضرت اقدس بابت دوشنبه مورخه ۱۶ / مارچ ۱۹۰۳ء میں مرقوم ہے: قبل از عشاء۔ایک صاحب ( جو کہ اپنا نام اظہار کرنا نہیں چاہتے ) کا نکاح امرت سر میں ایک احمدی بھائی کی دختر کے ساتھ پڑھا گیا جس پر حکیم نورالدین صاحب نے ایک خطبہ پڑھا اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں ہم ذیل میں درج کرتے ہیں۔ہمارے احباب کو چاہیئے کہ اپنی شادی بیاہوں میں ان باتوں کو ضرور مد نظر رکھا کریں تا کہ ان کا ہر فعل الہی امر کی اطاعت کے رنگ میں ہو اور طبعی خواہشات پر مبنی نہ ہو۔فقط خلاصہ یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے یہ نصیحت فرمائی ہے کہ تقویٰ اختیار کرو۔شادی کرنے میں لوگوں کو کبھی مال کا لحاظ ہوتا ہے اور کبھی جمال کا لحاظ ہوتا ہے کبھی حسب و نسب کا خیال ہوتا ہے غرض بہت قسم کے نفسانی امور اور شہوانی اغراض مد نظر ہوتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے جو نکاحوں کے معاملات بتلائے ہیں ان میں تقویٰ پر زور دیا ہے اور اس سے غرض یہ ہے کہ انسان شہوت کی نظر سے بچے بُری اور گندی گفتگوؤں سے بچے۔دیکھا گیا ہے کہ تعد دازدواج کی ضرورت پر بحث کرتے ہوئے لوگ حکیمانہ طرز پر چلے جاتے ہیں مگر اصل اور صحیح بات کہ جس کے لیے تعد دازدواج کے جواز کی ضرورت ہے وہ تقویٰ ہے۔صحیح اور سیدھی بات انسان کو جب ہی نصیب ہوتی ہے جب اسے تقویٰ کا خیال ہو۔اس وقت خود خدا اعمال افعال میں تقویٰ عطا کرتا ہے۔پھر ان آیات میں اللہ تعالیٰ بتلاتا ہے کہ خَلَقَكُمْ مِنْ نَفَسٍ وَاحِدَةٍ کہ اللہ نے ایک ہی جی سے تم کو پیدا کیا اور دیکھو کہ اس سے کس قدر مخلوق بڑھی ہے رشتہ ناطہ ، لڑکے لڑکیاں وغیرہ کیسے تعلقات ہیں کہ آپس میں بڑھتے جاتے ہیں اور انہی کے لئے نکاح ہے تا کہ محبت ، امن اور باہمی تعلقات آپس میں پیدا ہوں۔پھر اس سب سے اصل مقصود تقوی ہی ہے۔متقی کا ہر ایک عمل قبول ہوتا ہے متقی ہر ایک تنگی سے بچایا جاتا ہے۔متقی کو ایسی جگہ سے رزق ملتا ہے جہاں اس کو پتہ نہ ہو۔یادرکھو کہ ان رشتہ داریوں کی بناء تقویٰ پر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان تعلقات کا کہاں تک خیال تھا اس کی نسبت سن لو کہ ایک دفعہ اپنے وعظ میں فرمایا کہ مصر فتح ہوگی تو وہاں ہمارے رشتے کا خیال رکھنا۔آخر جب صحابہ نے اسے فتح کیا تو اس پر عمل کیا اور جب وہاں کے