اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 133 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 133

۱۳۷ آپ کی لڑکی کے لئے کوئی رشتہ تجویز نہیں کر سکتا۔اگر آپ کو یہ رشتہ منظور ہو تو جمعرات کے روز آ جائیں۔بابا جیون بٹ صاحب میاں غلام رسول حجام سکنہ امرت سر ( صحابی) کے ہمراہ جمعرات کو قادیان آگئے۔میاں غلام رسول بہت مخلص تھے۔انہیں بابا جی نے یتیمی کی حالت میں پرورش کیا تھا۔ظہر کی نماز کے وقت حضرت مولوی۔بقیہ حاشیہ: - (ز) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آپ سے تعارف ایک اشتہار سے ہوا تھا۔حضرت مولوی نور الدین صاحب نے کچھ سوالات پیر مہر علی صاحب گولڑ وی سے دریافت کئے تھے اس وقت پیر صاحب کھل کر سامنے نہیں آئے تھے اور مولوی غازی کے ذریعہ سے تحریر کرواتے تھے۔چنانچہ مولوی غازی کے نام سے ان سوالوں کے جواب میں ایک اشتہار شائع ہوا جس میں سوالات کے جوابات کی بجائے آپ پر چند سوالات کئے گئے تھے۔مولوی سرور شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں ابھی بعد بیعت قادیان نہیں آیا تھا۔۱۸۹ ء سے قبل کی بات ہے کہ میں نے ان سوالات کا جواب بصورت اشتہار شائع کیا اور ایک اشتہار حضور کی خدمت میں بھیجد یا۔جب میری اہلیہ کی وفات کا تار آیا تو میری زبان سے بے اختیار الحمدللہ نکلا۔کیونکہ وہ کافی عرصہ سے بیمار تھیں اور ان کی وجہ سے میں قادیان نہیں آ سکتا تھا۔(ص۵۵) آپ کا بیان ہے کہ میں موسم گرما کی تعطیلات میں پہلی بار قادیان آیا۔دوسرے روز سیر میں حضور نے میرے اشتہار کی تعریف فرمائی (ص ۵۱) آپ کا اس جوابی اشتہار کو ۱۸۹۹ء سے قبل بیان کرنا بھی تاریخی بھول ہے۔کیونکہ غازی صاحب ( مرید پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی) کے نام سے اشتہار ۱۹۰۰ء میں شائع ہوا تھا اور حضرت مولوی نورالدین صاحب (خلیفہ اول) کے خط کے جواب میں شائع ہوا تھا جو آپ نے ۱۸ فروری ۱۹۰۰ء کو پیر صاحب کو ان کی کتاب دوشمس الہدایت فی اثبات حیاة امسیح ( شائع کردہ جنوری ۱۹۰۰ء) کے متعلق تحریر کیا تھا۔(بحوالہ الحکم ۲۴ را پریل ۱۹۰۰ ء ص ۷ ) اور مولوی سرور شاہ صاحب جولائی ۱۹۰۰ء میں موسمی تعطیلات میں قادیان آئے تھے۔( الحکم ۱۶ جولائی ص ۷ ) نتیجه: سونتیجہ یہ نکلا کہ آپ نے ۱۹۰۰ء میں اشتہار شائع کیا۔اسی سال آپ کی اہلیہ اول کی وفات ہوئی اور آپ پہلی بار قادیان آئے اور اسی زیارت کے دوران حضرت اقدس نے آپ کو لمبا عرصہ صحبت میں رہنے کی تلقین کی اور نتیجہ حضرت مولوی صاحب اگلے سال (۱۹۰۱ء میں ) ہجرت کر آئے۔