اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 103 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 103

۱۰۴ ہو یہ پیشگوئی کرے کہ آج بارش ہوگی اور پھر بارش ہو جائے۔“ ۵۵ مولوی ثناء اللہ کا قادیان آنا ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ء کے متعلق مرقوم ہے کہ مغرب کی نماز کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام اندرونِ خانہ تشریف لے جارہے تھے کہ ایک شخص نے مولوی ثناء اللہ کا رقعہ دیا۔اور جب عشا کی نماز کے واسطے تشریف لائے تو فرمایا کہ ایک ہی مضمون کے دور قعوں کی کیا غرض تھی۔۔۔غالبا دوسرا رقعہ یعنی رسید رقعہ لینے کے واسطے تھا۔۔۔۔اور وہ رقعہ اس وقت سید سرور شاہ صاحب کے حوالے کیا گیا کہ وہ اسے پڑھ کر اہل مجلس کو سُنا دیں۔“ ۵۶۔اس رقعہ میں یہ ذکر ہے کہ آپ کی دعوت مندرجہ اعجاز احمدی صفحہ ، صفحہ ۲۳ کے مطابق آیا ہوں۔امید ہے کہ آپ میری ہدایت و تفہیم میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں گے اور آپ مجھے اپنے وعدہ کے مطابق اجازت دیں گے کہ مجمع عام میں آپ کی پیشگوئیوں کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کروں۔حضور نے جواب تحریر کیا کہ آپ کا جو بھی شک ہو دو تین سطر لکھ کر پیش کر دیں۔میں آپ کا اعتراض لوگوں کو سُنا کر ایک گھنٹہ تک جواب دوں گا اور ہر گھنٹہ کے بعد آپ کا پھر اعتراض معلوم کر کے جواب دوں گا۔۱۵ جنوری کو ایک مقدمہ کی وجہ سے جہلم جانا ہے۔بوجہ کم فرصتی اور طبع کتاب تین گھنٹہ سے زیادہ وقت خرچ نہیں کر سکتا۔آپ بغیر اطلاع دیئے آئے ہیں۔نیز مباحثات سے کنارہ کشی کا اللہ تعالیٰ سے انجام آتھم میں وعدہ کر چکا ہوں۔اس لئے آپ کو گفتگو کی اجازت نہیں تا مباحثہ کا رنگ نہ ہو جائے۔رقعہ دے کر حضور نے کہلا بھیجا کہ رقعہ وہاں ان کو جا کر سُنا دیا جاوے اور پھر ان کے حوالے کر دیا جاوے۔چنانچہ حسب الحکم حضرت صاحب مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اس رقعہ کو لے کر ثناء اللہ صاحب کے مکان پر گئے۔یہ ایک کوٹھڑی تھی جس میں قادیان کی آریہ سماج کا جلسہ وغیرہ ہوا کرتا تھا وہاں مولوی صاحب کے پاس بہت سے آدمی اور تین پولیس میں بھی تھے۔وہاں جا کر وہ رقعہ سُنا کر مولوی صاحب کے حوالے کیا گیا۔مگر مولوی صاحب نے اس رقعہ کو غور سے نہ دیکھا اور خط دیکھ کر کہا کہ یہ مرزا صاحب کا لکھا ہوا نہیں ہے۔مگر ان کو دکھلایا گیا کہ اس پر حضرت مرزا صاحب کی مہر اور دستخط ثبت ہیں۔آخری حصہ رقعہ جو کہ بعد میں لکھا گیا تھا چونکہ اس پر حضرت کے دستخط نہ ہوئے تھے اس لئے وہ واپس پھر حضرت کی خدمت میں بھیجا گیا اور ایک صاحب اللہ دینہ نامی نے چاہا کہ اعجاز احمدی کی عبارت پر سید محمد سرور شاہ صاحب سے کچھ گفتگو کرے۔مگر سید صاحب نے کہا میرے مخاطب مولوی ثناء اللہ ہیں نہ کہ آپ اور پھر پولیس مین نے بھی ان کو کہہ دیا کہ کوئی کلام زبانی نہ ہو۔