اصحاب احمد (جلد 5) — Page 102
۱۰۳ کی درمیانی رات میں سخت دھنگا زلزلہ کا محسوس ہوا اور اس سے پہلے بارش بھی ہوئی اور اولے بھی پڑے اور وہ الہام کہ آسمان ٹوٹ پڑا سارا پورا ہو گیا اور اسی ڈاک میں ایک خط یعنی کار ڈا خویم میاں نواب خان صاحب تحصیلدار گجرات کا مجھ کو ملا جس میں لکھا تھا کہ دوسری اور تیسری مارچ ۱۹۰۷ء کی درمیانی جو رات تھی اس میں ساڑھے نو بجے رات کے ایک سخت دھکا زلزلہ کا محسوس ہوا جو نہایت خطر ناک تھا۔اور اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور مورخہ ۵/ مارچ ۱۹۰۷ء میں اس زلزلہ کے متعلق مندرجہ ذیل خبر ہے : - ” ہفتہ کی شام کو ایک تیز دھگا زلزلہ کا محسوس ہوا جو چند سیکنڈ تک رہا۔اس کی سمت شمال مشرقی تھی۔“ اور اخبار عام لاہور مورخہ 4 مارچ ۱۹۰۷ء میں لکھا ہے کہ سرینگر (کشمیر) میں سینچر کی رات کو بوقت ساڑھے نو بجے ایک تیز زلزلہ محسوس ہوا چند سیکنڈ رہا۔شمالاً شرقاً۔اب کوئی ہمیں بتاوے کہ کیا کسی انسان کی طاقت میں یہ بات داخل ہے کہ اپنی طرف سے یہ پیشگوئی شائع کرے کہ آج بارش ہوگی اور اس کے بعد زلزلہ آئے گا اور ایسے وقت میں خبر دی ہو جبکہ دھوپ نکلی ہوئی تھی اور بارش کا کوئی نشان ( نہ ) تھا اور پھر اسی طرح وقوع میں آجائے اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس کا ثبوت کیا ہے تو معزز گواہان روئیت کے نام ذیل میں لکھے جاتے ہیں جن کو یہ پیشگوئی اس وقت سنائی گئی تھی یعنی ۲۸ فروری ۱۹۰۷ء کی صبح کے وقت جب کہ دھوپ صاف طور پر نکلی ہوئی تھی اور آسمان پر سورج چمک رہا تھا اور بادل کا نام ونشان نہ تھا۔“ ان ایک سو سے زائد گواہوں میں حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کا نام بھی درج ہے۔اندراج اسماء کے بعد حضور تحریر فرماتے ہیں:۔یادر ہے کہ اس پیشگوئی میں کہ ایک سخت زلزلہ آئے گا اور آج بارش بھی ہوگی ایک لطیفہ ہے اور وہ یہ ہے کہ زلزلہ زمین سے متعلق ہے اور بارش آسمان سے آتی ہے۔پس یہ ایسی پیشگوئی ہے کہ اس میں زمین اور آسمان دونوں جمع کر دیئے گئے ہیں تا پیشگوئی دونوں پہلوؤں سے پوری ہو۔کیونکہ یہ امر انسان کی طاقت سے باہر ہے کہ وہ اپنی طرف سے پیشگوئی کرے جس میں زمین اور آسمان دونوں شامل کر دیئے جائیں۔بلکہ خود یہ امر انسانی طاقت سے باہر ہے کہ عین دھوپ کے وقت جبکہ بارش کا خاتمہ ہو چکا