اصحاب احمد (جلد 5) — Page 94
۹۴ اتباع کیا گیا ہے۔واقعات سے کوئی غرض ہی نہیں رکھی گئی ہے۔‘ ۳۷ حضور کا اعجاز احمدی سننا اور مولوی صاحب و عرفانی صاحب کا اسے ثناء اللہ کو امر تسر پہنچانا ۱۵ نومبر ۱۹۰۲ء کی ڈائری میں مرقوم ہے کہ : - اعجاز احمدی جو خدائے برتر و قادر کے عظیم الشان نشانوں میں سے ایک نشان ہے آج بالکل طبع ہو کر شائع ہو گیا۔آج کے دربار شام میں خاکسار ایڈیٹر الحکم نے حضرت حجتہ اللہ مسیح موعود علیہ السلام کے حکم سے حاضرین دارالامان کو اس کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا اور بعد نماز عشاء در بارختم ہوا۔‘ ۳۸ اس سے قبل الحکم مؤرخہ ۱۹۰۲-۱۱-۱۰ میں مرقوم تھا کہ : - حضرت اقدس ایک عظیم الشان تصنیف میں مصروف ہیں جو خدا تعالیٰ کا ایک بین نشان ثابت ہوگی۔انشاء اللہ العزیز حضرت اقدس نے اعجاز احمدی میں تحریر فرمایا ہے کہ :- انشاء اللہ ۱/ نومبر ۱۹۰۲ء کو صبح کو میں یہ رسالہ اعجاز احمدی مولوی ثناء اللہ کے پاس بھیج دوں گا۔جو مولوی سید محمد سرور صاحب لے کر جائیں گے۔‘ ۳۹ نیز فرماتے ہیں ؎ و جئناک یا صيد الرّدى بهدية ونهدی الیک المرهفات و نعقر فابشرو بشر كل غول يُسبّني سیاتیک مــنــي بـالتـحـائـف سـرور (ترجمہ: اوراے وبال کے شکار ! ہم تیرے پاس ایک ہدیہ لے کر آئے ہیں اور ہم تیز تلواروں کا یعنی لا جواب قصیدہ کا تجھے ہدیہ دیتے ہیں۔پس خوش ہو اور ہر ایک غول جو مجھے گالی دیا کرتا تھا اس کو بشارت دے۔عنقریب میری طرف سے سید محمد سرور تحفہ لے کر تیرے پاس آئیں گے۔‘) ۴۰ چنانچہ ۱۶ نومبر کی صبح کو حضور کے ارشاد کے مطابق مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایڈیٹر الحکم اعجاز احمدی لے کر اتمام حجت کی غرض سے امرتسر روانہ ہوئے“۔(الحکم مورخہ