اصحاب احمد (جلد 4) — Page 52
۵۲ وہاں لے گیا ہے۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس شخص سے ہمیں محبت ہے اس کے متعلقین سے بھی قدرتاً محبت ہوتی ہے۔اس لئے سچی دوستی کی نشانی یہی سمجھی گئی ہے کہ ایک دوست دوسرے دوست کے مال و جان اور عزیز واقارب کا اسی طرح محافظ ہو۔اور چاہنے والا ہو جیسے کہ وہ اپنے مال وجان کی حفاظت کرتا اور اپنے عزیز و اقارب کو چاہتا ہے۔پس وہ شخص جس کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر یہ اقرار کیا ہو۔کہ ہم تجھ سے تمام دنیا کے رشتوں اور دوستیوں سے بڑھ کر سلوک کریں گے۔اس کی ہر ایک چیز کیوں پیاری نہ ہو۔غالباً یہی وجہ ہے کہ اس جماعت کو ہم ( سے ) ایک خاص محبت اور اخلاص ہے۔بلکہ میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ محض اخلاص ہی اخلاص ہے۔اور نفسانی خواہشیں ان میں بالکل نہیں۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ حضرت صاحب نے ان کو ایک موقعہ پر لکھا۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ قیامت کو بھی میرے ساتھ ہوں گے۔کیونکہ دنیا میں بھی آپ نے میرا ساتھ دیا ہے۔اس جگہ میں نے کامل ایمان کے کئی نمونے دیکھے اور سنے۔لیکن ایک بات نے تو مجھ پر وہ اثر کیا کہ میری روح کو قول بلی یاد آ گیا۔اور اگر چہ اس کا لکھنا شاید عام لوگوں کے لئے مفید ثابت نہ ہو۔لیکن بعض بامذاق لوگوں کے لئے جن کو خاص ذوقی بات عام دلائل سے زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے۔شاید مفید ثابت ہو۔منشی محمد اروڑا صاحب جو حضرت صاحب کے نہایت پرانے مریدین میں سے ہیں اور حضرت اقدس سے خاص محبت جو شاید دوسری جگہ بہت کم ملے رکھتے ہیں۔انہوں نے سنایا کہ ایک دفعہ حضرت اقدس نے مجھ سے پوچھا کہ سب لوگ دعا کے لئے کہتے ہیں۔اور آپ بالکل نہیں کہتے اس کی کیا وجہ ہے انہوں نے جواب دیا کہ مجھے کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔میں آپ خدا تعالیٰ سے مانگ لیتا ہوں۔اور اس وقت آپ پر اس کے احسانات اور کرم ہیں۔ان کو زیر