اصحاب احمد (جلد 4) — Page 51
۵۱ کپورتھلہ پہنچے۔یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں حضرت اقدس مسیح موعود کا بھی کچھ مدت قیام رہا ہے۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ خاص خاص جگہوں میں خاص خاص خصوصیتیں ہوتی ہیں۔کپورتھلہ کی مٹی میں خدا تعالیٰ نے وہ اثر رکھا ہے کہ یہاں جس قدر لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے ہیں کسی دلیل۔کسی معجزہ کسی نشان کی وجہ سے نہیں ہوئے اور نہ انہیں کسی کشف وکرامت کی ضرورت ہے کہ ان کے ایمان کو قائم رکھے۔بڑے سے بڑا ابتلا ہو اور کیسا ہی سخت امتحان ہو۔ان لوگوں پر خدا کا کچھ ایسا فضل ہے کہ ان کا پائے ثبات ذرہ بھی لغزش نہیں کھاتا۔اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کی معجزانہ زندگی کو دیکھ کر آپ کی بیعت ہی نہیں کی بلکہ عشق پیدا کیا ہے۔اور یہاں تک ترقی کی ہے۔کہ ” لیلی را چشم مجنوں بائید دید کا معاملہ ہو گیا ہے۔ان لوگوں نے خدا کے مرسل کی زندگی کو دیکھ لیا ہے۔کہ وہ کیسی پاک اور صاف تھی۔اور مشاہدہ کرلیا ہے کہ وہ گنا ہوں سے کیسا پاک تھا۔پس اب جو کچھ ہو کوئی بات ان کے ایمان کے برخلاف نہیں ہوتی۔ان کے ہاتھ میں وہ دلیل آگئی ہے۔کہ اسے کوئی توڑ ہی نہیں سکتا اور وہ یہ کہ کیا ایسا راستباز آدمی خدا پر جھوٹ بول سکتا ہے۔اور یہ ایک ایسی کی بات ہے کہ اس کا توڑنا پھر انسان کی طاقت سے باہر ہے۔قرآن شریف نے بھی لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمْرًا کے ایک چھوٹے سے جملہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا نقشہ کھینچ دیا ہے۔وہی محبت اور اخلاص کا رنگ اس جماعت نے بھی اپنے دل پر کھینچا ہے۔چنانچہ اس جماعت کے ایک بزرگ کی نسبت حضرت صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ مجھے یہ تو خطرہ نہیں کہ انہیں کبھی میری وجہ سے کوئی ابتلا آئے گا۔ہاں یہ ڈر ہے کہ محبت کے جوش میں حد سے نہ بڑھ جاویں۔چنانچہ ان کا یہی اخلاص اور محبت ہی حضرت صاحب کو وہاں کھینچ کر لے گیا۔اور یہی ہمیں بھی