اصحاب احمد (جلد 4) — Page 45
۴۵ بھجوائیں۔۵ نشانات الہیہ کے گواہ حضرت اقدس سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب نزول امسیح میں بیان فرمایا ہے کہ اَهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں اس انعام کی امید دلائی گئی ہے جو پہلے نبیوں کو دیا گیا ہے اور ان تمام انعامات سے بزرگ تر انعام وحی یقینی کا انعام ہے۔کیونکہ گفتا ر الہی کم از کم دیدار الہی ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ موجود ہے۔بیشک قرآن شریف معجزہ ہے۔لیکن معجزہ کے جو ہر کو ظاہر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ایک ایسا شخص ہو جو بذریعہ الہام الہی پاک کیا جائے۔جب نبوت کا زمانہ گزر جاتا ہے اور خدا کا کلام قصوں کے رنگوں میں پڑھا جاتا ہے۔تب ایک جو ہر قابل پیدا کیا جاتا ہے جس کے ذریعہ وہ علم جو آسمان پر اٹھ گیا تھا۔پھر زمین پر واپس آجاتا ہے۔سو تازہ کلام الہی خدا کی شریعت کی پشتیبان ہے۔پھر حضور شیطانی اور رحمانی الہام کی گیارہ امتیازی نشانیاں بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : خدائی الہام میں ایک خدائی کشش ہوتی ہے۔اول وہ کشش ملہم کو عالم تفرید اور انقطاع کی طرف کھینچ لے جاتی ہے اور آخر اس کا اثر بڑھتا بڑھتا طبائع سلیمہ مبایعین پر جا پڑتا ہے۔تب ایک دنیا اس کی طرف کھینچی جاتی ہے اور بہت سی روحیں اس کے رنگ میں بقدر استعداد آجاتی ہیں۔‘ے نیز فرماتے ہیں: 'سچا الہام چونکہ خدا کا قول ہے۔اس لئے وہ اپنی تائید کے لئے خدا کے فعل کو ساتھ لاتا ہے اور اکثر بزرگ پیشگوئیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔جو سچی نکلتی ہیں اور قول اور فعل دونوں کی آمیزش سے یقین کے دریا جاری ہو جاتے ہیں۔اور انسان سفلی زندگی سے منقطع ہو کر ملکوتی صفات