اصحاب احمد (جلد 4) — Page 37
۳۷ ہوتا تھا۔اسی طرح کے کئی واقعات ہیں۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے والد صاحب کی وفات پر جو خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔اس میں اس نازونیاز کے تعلق کا بھی ذکر فرمایا ہے۔گورداسپور کا مقام ہے بارش ہو رہی ہے۔ضروری کاموں کی انجام دہی کے بعد بہت رات گئے والد صاحب آتے ہیں۔حضور ایک کمرہ میں مع خدام فروکش ہیں سب سو رہے ہیں کوئی چار پائی خالی نہیں۔حضور والد صاحب کو دیکھ کر اپنی چارپائی کو تھپک کر ارشاد فرماتے ہیں کہ یہاں آ جاؤ۔اور اپنا لحاف والد صاحب پر ڈال دیتے ہیں۔اس قسم کی پدرانہ شفقت کے کئی واقعات ہیں۔وجہ یہ کہ 19 سال کی عمر میں ہی والد صاحب حضور کی غلامی میں داخل ہوئے اور گویا بچوں کی طرح حضور کے دامن تربیت میں آپ نے پرورش پائی اور ہر حال میں شریک رہے۔وَذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ آخری بیماری اور وفات وفات سے ایک سال قبل آپنے مجھ سے ذکر کیا کہ میں نے خود کو رویا میں مسیح موعود علیہ السلام کے پاس دیکھا۔اور اب میرا آخری وقت قریب ہے اس کے بعد آپ گویا چلنے کی تیاری میں رہتے۔۱۵ اگست ۱۹۴۱ء کو آپ بیمار ہوئے پیچش اور دست کا عارضہ تھا۔پھر قے اور بیچکی شروع ہوئی۔ہر قسم کا علاج کیا گیا۔لیکن حالت روز بروز کمزور ہوتی گئی۔اس کمزوری کے باوجود آپ خود قضائے حاجت کے لئے جاتے اور Bed Pan یا کموڈ پر بیٹھنا پسند نہ کیا۔۱۶ اگست کو حضرت صاحب کو ڈلہوزی تار دیا گیا۔ایک دوست حکیم محمد یعقوب صاحب ملنے کے لئے آئے اور کہا منشی صاحب آپ فکر نہ کریں۔جب وہ چلے گئے تو آپ نے بڑے استغناء سے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ” مجھے ذرا بھی ڈر نہیں کہ موت آئی میرا جہاز بھرا ہوا ہے۔مطلب یہ تھا کہ خدا کے فضل سے میرا انجام بخیر ہوگا۔آخر ۱۸ اگست کو کمزوری بہت ہوگئی۔منہ کے قریب کان لے جا کر بات سنائی دیتی تھی۔باوصف اس حالت کے آپ ہمت کر کے قضائے حاجت کے لئے خود جاتے۔اور ہمارے یہ عرض کرنے پر کہ آپ کا اس طرح