اصحاب احمد (جلد 4) — Page 188
۱۸۸ آگئی۔چوہدری رستم علی خاں صاحب مرحوم گاڑی میں کھڑے آوازیں دے رہے تھے کہ ایک ٹکٹ نہ لینا میرے ساتھ سوار ہو جانا۔میں چوہدری صاحب مرحوم کے پاس بیٹھ گیا۔اور ہم دہلی پہنچ گئے دہلی میں حضرت صاحب نے ایک بڑا دو منزلہ مکان کرایہ پر لیا ہوا تھا اوپر زنا نہ تھا۔اور نیچے مردانہ رہائش تھی۔لوگ واقعہ میں روز صبح وشام گالی گلوچ کرتے تھے اور ہجوم اینٹ پتھر پھینکتا تھا۔انسپکٹر پولیس جو احمدی تو نہ تھا لیکن احمدیوں کی امداد کرتا تھا۔اور ہجوم کو ہٹا دیتا تھا۔ایک دن مرزا حیرت آیا۔میں اس وقت کہیں گیا ہوا تھا۔اس نے آکر حضرت صاحب کو بلوایا اور کہا میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ہوں۔مجھے ہدایت ہوئی ہے کہ میں آپ سے دریافت کروں کہ آپ کس غرض کے لئے آئے ہیں۔اور کس قدر عرصہ ٹھہریں گے۔اور اگر کوئی فساد ہو تو اس کا ذمہ دار کون ہے۔آپ مجھے اپنا بیان لکھوا دیں۔اسی اثناء میں میں آگیا۔میں اس کو جانتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان لکھا رہے تھے اور میں یہ دیکھ کر خاموشی سے زینے سے نیچے اتر آیا اور اس نے مجھے دیکھ لیا اور اتر کر بھاگ گیا۔میں دراصل پولیس میں اطلاع دینے کے لئے نیچے اترا تھا۔اس کو اترتے ہوئے دیکھ کر ایک عورت نے جو او پر تھی اُسے برا بھلا کہا۔۸۹۔مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالوی دہلی آگئے جن کو علی جان والوں نے مباحثہ کے لئے بلایا تھا۔علی جان والے ٹوپیوں کے بڑے سوداگر اور وہابی تھے۔انہوں نے آکر عرض کی کہ مولوی صاحب کو بھوپال سے آپ کے ساتھ مباحثہ کرنے کے لئے بلایا ہے۔شرائط مناظرہ طے کر لیجئے۔حضور نے فرمایا کہ کسی شرط کی ضرورت نہیں۔احقاق حق کے لئے یہ بحث ہے وہ آجائیں اور جو دریافت فرمانا چاہیں دریافت فرمالیں۔پھر ایک تاریخ مقرر ہو گئی۔مجھ کو اور پیر سراج الحق صاحب مرحوم کو حضور نے حکم دیا کہ آپ کچھ کتابیں اپنے واقفوں سے لے آئیں۔ہمیں تو ضرورت نہیں