اصحاب احمد (جلد 4) — Page 172
۱۷۲ اور وہ مر چکا تھا۔ہم وہاں بیٹھے رہے۔اور پھر چلے آئے۔رات کو مفتی فضل الرحمن صاحب کی بیٹھک میں اس کے مرنے پر ہم نے ایک قسم کی خوشی کی۔حضرت صاحب پر بھی کسی نے ظاہر کر دیا۔صبح کو جب آپ سیر کے لئے تشریف لے گئے تو ناراضگی کا اظہار فرمایا۔کہ میرا ایک آدمی مرگیا ہے اور تم خوشی کرتے ہو۔( مطلب یہ تھا کہ میں تو اس کے اسلام لانے کا خواہاں تھا) اور فرمایا مجھے خوف ہے کہ ہم میں ایسا واقعہ نہ ہو جائے۔ہمیں اس پر بہت شرمندگی ہوئی۔راستے میں لاہور سے تار آیا کہ الہی بخش اکونٹنٹ پلیگ سے مرگیا۔جس نے حضور کے خلاف ایک کتاب میں اپنے آپ کو موسیٰ اور حضرت صاحب کو فرعون اپنے الہام کی رو سے لکھا تھا۔میں اس تارکوسن کر بے اختیار ہنس پڑا۔حضرت صاحب میری طرف ذرا دیکھنے لگے تو میں نے عرض کی کہ حضور مجھے ہنسی اس لئے آگئی کہ یہ موسیٰ اپنے آپ کو کہتا تھا۔اور موسیٰ صاحب پہلے ہی پلیگ سے چل دیئے۔آپ نے فرمایا اس کی کتاب میں سے وہ تمام الہامات جو اس کو ہمارے خلاف فوراً ہوئے ہیں۔مجھے نکال کر دو۔چنانچہ میں نے وہ نوٹ کر کے دیئے۔۶۰۔اسی حالت میں ایک طالب علم محمد حیات نامی کو پلیگ ہو گیا۔اس کو باغ میں بھیج کر علیحدہ کر دیا گیا۔اور حضور نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو بھیجا کہ اس کو جا کر دیکھو۔اسے چھ گلٹیاں نکلی ہوئی تھیں اور بخار بہت سخت تھا اور پیشاب کے راستے خون آتا تھا۔حضرت مولوی صاحب نے ظاہر کیا کہ رات رات میں اس کا مرجانا اغلب ہے۔اس کے بعد ہم چند احباب حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔محمد حیات کی تکلیف اور مولوی صاحب کی رائے کا اظہار کر کے دعا کیلئے عرض کی حضرت صاحب نے فرمایا میں دعا کرتا ہوں۔اور ہم سب روتے تھے۔میں نے روتے روتے عرض کہ کی حضور دعا کا وقت نہیں سفارش فرما ئیں۔میری طرف مڑ کر دیکھ کر فرمایا۔بہت اچھا۔مسجد کی چھت پر