اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 137 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 137

۱۳۷ اور محمد یعقوب کو خط لکھا کہ یہاں میرا اور محمد خاں صاحب کا جھگڑا ہے۔وہ کہتے ہیں آپ نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا اور میں کہتا ہوں کہ ان الفاظ میں بیان کیا تھا۔محمد یعقوب صاحب کا خط امرتسر سے آیا جس میں میرے بیان کردہ الفاظ کی اس نے تائید کی میں محمد یعقوب کا خط لے کر قادیان پہنچا۔حضور بہت خوش ہوئے اور وہ خط شائع کر دیا جس سے یہ لوگ بہت شرمندہ ہوئے۔محمد یوسف صاحب میرے ہم وطن تھے۔میرا وطن قصبہ بڈھانہ ضلع مظفر مگر ہے۔اور محمد یوسف صاحب بڑھانے سے اڑھائی میل حسین پور کے رہنے والے تھے۔: حضرت مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کے مرید با بو الہی بخش اکومنٹنٹ حافظ محمد یوسف صاحب داروغہ نہر اور ان کے بھائی منشی محمد یعقوب۔یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مداح تھے۔بابو صاحب کو حضور کی تائید میں الہامات ہوتے تھے۔جو وہ ایک رجسٹر میں درج کرتے تھے۔ایک دفعہ انہوں نے اپنے الہامات حضور کو سنائے تو حضور نے از راہ شفقت عوام و مامورین کے الہامات کا فرق بتایا کہ عوام کے الہامات وغیرہ میں بعض دفعہ شیطانی ملونی ہوتی ہے۔یہ بات ان کو بری لگی۔چنانچہ اب انہیں حضور کی مخالفت میں الہامات ہونے لگے۔اور ان کے سارے ساتھی ان کے ساتھ بد عقیدہ ہو کر تباہ ہوئے۔حضور نے ۱۶ جون ۱۸۹۹ء کے اشتہار میں یہ شائع فرمایا کہ حافظ صاحب نے ایک مرتبہ ۲۰۰ افراد کی موجودگی میں حلفاً بیان کیا تھا کہ ان کے پیر حضرت مولوی عبداللہ صاحب غزنوی نے مجھے فرمایا کہ میں نے کشفاً دیکھا کہ ایک نور آسمان سے قادیان کی طرف نازل ہوا ہے اور میری اولا د اس سے محروم رہ گئی ہے۔اسی طرح حضور فرماتے ہیں کہ جب میرا مباہلہ امرتسر میں مولوی عبدالحق غزنوی سے ہوا تھا تو منشی محمد یعقوب صاحب نے دوسو آدمیوں کے روبرو یہی گواہی دی تھی۔اس گواہی کے بارہ میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب نے منشی محمد یعقوب سے استفسار کیا اور جو خط موصول ہوا وہ حضور نے اس اشتہار میں شائع فرمایا۔کہ یہ تحریری شہادت بھی حضور کی تائید میں ہے ۴۵۔حضور نے اس اشتہار میں دریافت فرمایا ہے کہ بابو الہی بخش کے الہامات کو سچا مانا جائے یا ان کے پیر بزرگ حضرت مولوی صاحب کے کشف کو جس کے بارہ میں حافظ صاحب اور ان کے بھائی نے گواہی دی تھی ( مولف اصحاب احمد )