اصحاب احمد (جلد 4) — Page 58
۵۸ حضرت منشی صاحب کی نصائح اخویم قاضی محمد ایوب صاحب سماٹری تین سال قادیان میں قیام کر کے واپس جانے لگے۔تو اس سے قبل کپورتھلہ میں حضرت منشی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے ان کو ذیل کی نصائح لکھ کر دیں: بسم اللہ الرحمن الرحیم اخویم مکرم جناب قاضی محمد ایوب صاحب ! محمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! آپ بعد تحصیل علم خدا کے فضل سے قریباً تین سال کتب مقدسه حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مطالعہ کر کے وطن مالوفہ سماٹرا جار ہے ہیں۔اور راستہ میں کپورتھلہ میرے ملنے کیلئے اس وقت تشریف لائے جبکہ میں مرض نقرس میں مبتلا تھا۔اور ہوں۔سب سے پہلے میں معافی چاہتا ہوں کہ میں اکرام ضیف پر پورا عمل کرنے سے قاصر رہا۔اور جو شرط مہمان نوازی کی ہونی چاہیئے تھی وہ بجا نہ لا سکا۔آپ میں اس نو عمری میں رشد اور سعادت کے آثار موجود ہیں۔اور یہی وہ عمر ہے کہ جو مجاہدات چاہتی ہے جس سے انسان نفس پر قابو پا کر تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب حاصل کر سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ: جو نو عمری اور جوانی میں پورے اخلاص کے ساتھ خدا کو راضی کرنے کیلئے عبادت کرتا ہے تو ضعیفی میں جب کہ اس کے قومی جواب دے دیتے بقیہ حاشیہ: اقدس نے کپورتھلہ کی جماعت کو یہ لکھ کر بھیجا تھا کہ : کپورتھلہ کی جماعت اس دنیا میں بھی میرے ساتھ اور آخرت میں بھی ہمارے ساتھ ہوگی۔فرمایا کہ افسوس وہ تحریر ایک شیشہ گرنے گم کر دی۔جبکہ اسے شیشہ میں لگانے کے لئے دی تھی۔سیرۃ المہدی حصہ سوم روایت نمبر ۸، ۹ میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سے مروی ہے کہ انہوں نے مذکورہ بالا قلمی تحریر بھی دیکھی۔ہیں اور وہ عبادت کرنے کے قابل نہیں رہتا تو جوانی کی عبادت کردہ ضعیفی