اصحاب احمد (جلد 4) — Page 57
۵۷ می در خشم چوں قمر تابم چو قرص آفتاب آنکھیں چکا چوند ہو گئیں۔محمد خاں مرحوم کی تو وجد کی حالت طاری ہوگئی۔اور ہم سب پر ایک عجیب حالت طاری تھی۔ایک طرف استیلائے محبت اور ایک طرف استغراق محو نظارہ میں خاموش ہو رہا۔آپ بیٹھ گئے فرمایا صاحبزادہ صاحب چپ کیوں ہو گئے پڑھو۔پھر میں نے مکر رسہ کرران اشعار کو پڑھا۔آپ سن کر محفوظ ہوئے اور فرمایا۔جزاک اللہ احسن الجزاء اس کے بعد نماز ادا کی۔‘۲۷ حضرت سے عشق و محبت حضرت مفتی صاحب احباب کپورتھلہ کو حضور کے وصال پر صبر کی تلقین کرتے ہوئے لکھتے ہیں : تمہارے دلوں کو جو صدمہ اس کی جدائی سے پہنچا ہے وہ تمہارے ہی دل جانتے ہیں۔میں اس کا کیا اندازہ کروں۔مگر میرے دوستو صبر سے کام لو۔دیکھو تم اس کے عاشق تھے۔تو وہ بھی آگے کسی کا عاشق تھا۔تمہارا عشق بہت بڑا تھا۔مگر اس کے عشق کا درجہ نہایت اعلیٰ تھا۔تم اس کے دیدار کے خواہشمند تھے تو وہ بھی اپنے محبوب کے وصال کا آرزومند تھا۔ہاں غم ہے تو ان ذاتی تعلقات کے لحاظ سے ہے۔جو ہم کو اس پیارے کے ساتھ تھے اس نے اپنے حسن واحسان سے ہمارے دلوں کو لبھا لیا تھا اور تم تو اے اہل کپورتھلہ ان تعلقات کو بہت زیادہ محسوس کرنے والے ہو۔میں دیکھتا تھا کہ حضرت اقدس تم لوگوں پر کس قدر شفقت کرتے تھے وہ اپنے قدیم دوستوں کو خصوصیت سے یاد کرتے تھے۔تمہاری ملاقات کے وقت ان کا انداز گفتگو نرالا ہوتا تھا۔وہ تمہارے ساتھ بے تکلف تھے۔اور وہ تمہاری ناز برداری کرتے تھے۔۲۸۴ حضرت منشی عبدالرحمن صاحب کپور تھلوی سے الحکم مورخہ ۷/۱۱/۳۴ میں مروی ہے کہ ایک دفعہ حضرت