اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 56 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 56

ایک روز کا ذکر ہے کہ صبح کے چار بجے تھے۔گلابی موسم تھا۔خاکسار اور منشی محمد خاں مرحوم عاشق مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور منشی ظفر احمد صاحب ساکنان کپورتھلہ اور حافظ احمد اللہ خان صاحب ناگپوری ویشوری و دیگر دوتین اصحاب مسجد میں بیٹھے تسبیح وتہلیل اور درود و استغفار میں مشغول تھے کسی نے اذان خوش الحانی سے دی۔جب وہ اذان ختم کر چکا تو میرے دل میں ایک جوش پیدا ہوا تو میں نے آہستہ آہستہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشعار خوش الحانی سے پڑھنے شروع کئے تو عاشق مسیح موعود علیہ السلام محمد خان صاحب نے زور سے پڑھنے کے لئے فرمایا چونکہ مرحوم کا اور میرا گہرا تعلق تھا اور ساتھ ہی بے تکلفی تھی ان کے ذوق قلبی اور فرمانے پر میں نے وہی اشعار زور سے پڑھے اور وہ اشعار ہیں۔وو چوں مرا نورے پئے قوم مسیحی داده اند مصلحت را ابن مریم نام من بنهاده اند در خشم چوں قمر تابم چو قرص آفتاب کور چشم آنانکه در انکار با افتاده اند بشنوید اے طالباں کز غیب بکنند این اند مصلح باید که در هر جا مفاسد زاده اند حافظ غلام محی الدین صاحب مرحوم جو بڑے مخلص احمدی تھے۔اور رات دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت اور کاروبار کیلئے مستعد اور کمر بستہ بڑے شوق سے رہتے تھے آگئے۔جب دوسرا شعر پڑھا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیت الفکر کی در بچی یعنی کھڑکی سے چہرہ منور چمکتا ہوا نکالا۔اور دست مبارک میں لالٹین روشن شدہ تھی۔اور ایک لیمپ مسجد میں روشن تھا۔اللہ اکبر اس وقت کا منظر کیا ہی مبارک اور دل کش تھا۔عین مین دوسرے شعر کے مصرعہ اول کے مطابق