اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 53 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 53

۵۳ نظر رکھ لیتا ہوں اور وہ کام خود بخود ہو جاتا ہے۔مجھے اس سے ایک تو ان کے ایمان پر خیال گیا کہ کیا ایمان ہے اور خدا تعالیٰ کے رحموں پر کس قدر بھروسہ ہے اور دوسرے حضرت اقدس کی سچائی پر کیا ایمان ہے اور دوسری طرف میرا خیال حضرت ابراہیم کی طرف گیا۔چونکہ وہ ایک عظیم الشان نبی تھے اس لئے انہوں نے بھی ایمان کا اس قسم کا نمونہ دکھایا ہے۔جو کہ ان کی طہارت نفس کی وجہ سے بہت ارفع ہے۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت جبرائیل آپ کے پاس آئے اور کہا کہ کچھ خواہش ہو تو فرمائیے۔آپ نے نہایت بے توجہی سے جواب دیا کہ کچھ نہیں۔میری تم سے کچھ غرض نہیں۔انہوں نے دوبارہ کہا کہ خدا تعالیٰ سے کچھ پیغام ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ مجھے کوئی واسطہ پسند نہیں۔انہوں نے سہ بارہ کہا کہ اچھا تو دعا کیجئے۔آپ نے جواب دیا کہ وہ آپ نہیں دیکھتا جو میں اسے سناؤں۔میرا کیا حال ہے۔سبحان اللہ کیسا ایمان ہے اور کیسا غنا ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ قرآن شریف میں جہاں حضرت ابراہیم کا کچھ ذکر آئے وہیں قرآن شریف کی عبارت محبت سے بھری معلوم ہوتی ہے۔اور معلوم ہوتا ہے کہ محب اپنے محبوب کا ذکر کر رہا ہے۔۲۲ عشق و محبت کے نظارے حضرت عرفانی صاحب رقم فرماتے ہیں کہ : ایک مرتبہ جب کرم دین سے مقدمات کا سلسلہ جاری تھا۔اور وہ لمبا ہو گیا۔حضرت کو ایک تاریخ پر قادیان سے تشریف لے جانا تھا۔ایک دوروز پیشتر اس قدر بارش ہوئی کہ راستہ نا قابل گذر اور دشوار گذار بن گیا۔سٹرک پر سیلاب جاری تھا۔جو احباب گورداسپور مقیم تھے انہوں نے خاص آدمی قادیان حضرت کو اطلاع کرنے کے لئے بھیجا۔کہ بارش بہت ہوئی ہے راستہ خراب ہے حضور تشریف نہ لاویں۔اس سیلاب میں