اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 50 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 50

۵۰ دد منشی ظفر احمد صاحب ساکن کپورتھلہ اور ایک شاگرد یا مرید مولوی رشید احمد گنگوہی میں حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی وفات وحیات کے متعلق گفتگو ہوئی۔وہ اس گفتگو میں تو مولوی صاحب کا مرید نا کام رہا کہ حیات مسیح علیہ السلام ثابت کر سکے۔مگر گفتگو اس پر آٹھہری کہ اتنی لمبی عمر کسی انسان کی پہلے ہوئی ہے۔اور اب ہوسکتی ہے کہ نہیں۔اس میں بھی وہ لا جواب رہا۔آخر کار اس نے ایک خط مولوی رشید احمد صاحب کو لکھا۔مولوی صاحب نے اس کے جواب میں لکھا کہ ہاں اتنی لمبی عمر یہ تو دو ہزار برس ہی ہوئے زیادہ عمر بھی ہو سکتی ہے۔دیکھو حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے شیطان اب تک زندہ چلا آتا ہے۔کتنے ہزار برس ہوئے۔اس کے جواب میں منشی ظفر احمد صاحب نے فرمایا کہ ذکر تو انسانوں کی عمر کا تھا نہ کہ شیطان کا۔کیا نعوذ باللہ حضرت مسیح علیہ السلام شیطانوں میں سے تھے جو شیطان کی عمر کی مثال دی۔اور یہ بھی ایک دعوی ہے۔مولوی رشید احمد صاحب دعویٰ اور دلیل میں فرق نہیں سمجھتے۔دعویٰ اور چیز ہے اور دلیل اور چیز ہے۔اس پر کیا دلیل ہے کہ وہی شیطان آدم والا اب تک زندہ ہے اور اس کی اتنی بڑی لمبی عمر ہے۔منشی صاحب موصوف کے اس جواب کو سن کر پھر ایک خط مولوی صاحب کو ان کے مرید نے لکھا۔مولوی صاحب نے یہ جواب دیا کہ تمہارا مقابل مرزائی ہے۔اس۔کہہ دو کہ ہم مرزائیوں سے کلام کرنا نہیں چاہتے۔اور تم بھی مت ملو ۲۱ جماعت کپورتھلہ کا اخلاص خاندان حضرت اقدس کی نظر میں سیدنا حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ) ۱۹۰۹ء کے ایک سفر کے حالات میں تحریر فرماتے ہیں کہ : والدہ صاحبہ حضرت ام المؤمنین نے کپورتھلہ میں ٹھہر نا تھا۔ہم