اصحاب احمد (جلد 4) — Page 38
۳۸ خود اٹھ کر جانا اطباء کے نزدیک حرکت قلب بند ہونے کا موجب ہوسکتا ہے۔آپ نے گوارا نہیں کیا کہ از خود قضائے حاجت کے لئے نہ جائیں۔اور فرمایا تم مجھے بے ہمت سمجھتے ہو۔آخری وقت تک چہرہ شگفتہ اور ہوش قائم رہے۔۲۰ اگست کی صبح کو ۶ بجے آپ نے سر اٹھا کر تھوکنا چاہا۔لیکن ذرا سا سر اٹھا کر رہ گئے۔اور میرے بھائی محمود نے تھوک ہاتھ پر لیا۔سانس بے قاعدہ ہو چکا تھا۔حافظ محمود الحق صاحب نے سورہ یسین پڑھنی شروع کی اس درمیان میں دو تین سانس اکھڑے ہوئے آئے اور آپ ہم سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گئے۔۱۹ اگست کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا عیادت نامہ آپ کو سنایا گیا آپ نے وعلیکم السلام کہا اور کہا کہ جواب لکھ دو۔اس سے قبل مجھ سے ۱۸ اگست کو پوچھا کہ حضرت صاحب کہاں ہیں۔میں نے کہا کہ حضور ڈلہوزی میں ہیں آپ خاموش ہو گئے۔حافظ محمود الحق صاحب کو آپ نے در پردہ کہہ رکھا تھا کہ وہ غسل دیں۔غرضیکہ اس آخری بیماری میں آپ کو پہلے سے یقین تھا۔کہ آپ کا اب آخری وقت ہے۔۲۰ اگست کو حافظ محمود الحق صاحب نے غسل دیا۔کپورتھلہ میں نماز جنازہ اس راقم نے پڑھائی۔اور تابوت لے کر بذریعہ لاری شام کے چھ بجے ہم قادیان پہنچ گئے۔تار کے ذریعہ سے احباب کو پہلے سے وفات کی اطلاع ہو چکی تھی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے قطعہ ”صحابہ میں جو بہترین جگہ ہو سکتی تھی وہاں پر قبر کھدوانے کا حکم دے رکھا تھا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مجھے چھاتی سے لگا لیا۔اور میں چشم پر آب ہو گیا۔بعد میں مفتی صاحب فرمانے لگے کہ میرا ارادہ ان سے ملاقات کے لئے کپورتھلہ آنے کا تھا۔لیکن کیا معلوم تھا کہ آپ ہم سے اس قدر جلد علیحدہ ہو جائیں گے۔مخدومی مولوی شیر علی صاحب نے دریافت کیا کہ مرحوم نے جنازہ پڑھانے کے لئے تو کوئی وصیت نہیں کی۔میں نے کہا نہیں بلکہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ میری نماز جنازہ ایک موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود پڑھا چکے ہیں۔۲۰ اگست کو بعد نماز مغرب مدرسہ احمدیہ کے صحن میں حضرت مولوی شیر علی صاحب امیر مقامی نے نماز جنازہ پڑھائی اور مقبرہ بہشتی میں ہم نے آپ کو سپرد خاک کیا۔تدفین اور دعا کے بعد مجمع حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر آیا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مزار کے جانب شرق کھڑے ہوئے دعا میں چشم پر آب تھے اور سارا مجمع