اصحاب احمد (جلد 4) — Page 35
۳۵ نے خوش ہوکر اسے انعام دیا۔غرض یہ ہے کہ ایک ہی مفہوم دلکش یا دلآزار پیرا یہ میں ادا کیا جاسکتا ہے۔پنجم : حضرت صاحب دہلی تشریف لے جارہے تھے۔امرتسر کے اسٹیشن پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی پائے گئے۔والد صاحب نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ محمد حسین صاحب بھی یہاں ہیں۔حضور نے فرمایا انہیں ہماری اطلاع کر دو۔محمد حسین صاحب سے والد صاحب کا پرانا تعلق تھا۔آپ جو اسے ملے تو اس نے مزاحیہ انداز میں کہا او کپور تھلیو! تم ابھی بھی گمراہی نہیں چھوڑتے۔والد صاحب : حضرت صاحب دہلی تشریف لے جار ہے ہیں۔محمد حسین : پھر مجھے اس سے کیا ؟ والد صاحب : پھر آپ کا کام وہاں کون کرے گا ؟ یہ ایک بڑا طنز یہ اشارہ تھا جس پر محمد حسین صاحب نے والد صاحب کو بے تکلفانہ برا بھلا کہنا شروع کیا اور پھر کہا۔محمد حسین : میں نے مرزا صاحب کی تردید میں ایک بڑا پرزور مضمون لکھا تھا۔آپ کو سنا تا مگر اتفاق ایسا ہوا ہے کہ جس بیگ میں وہ مضمون تھا وہ گم ہو گیا ہے۔والد صاحب : تو کیا آپ اب بھی ایمان نہیں لاتے ؟ محمد حسین : اچھا تو یہ بھی مرزا صاحب کی کرامت ہوئی ؟ والد صاحب : تو اور کیا کرامت کے سر پر سینگ ہوتے ہیں؟ محمد حسین : تو کیا میں پھر وہ مضمون نہیں لکھ سکتا ؟ والد صاحب : تو کیا خدا اسے پھر گم نہیں کر سکتا ؟ اس کے مولوی محمد بشیر صاحب بھو پالوی کے ساتھ مباحثہ کے موقعہ پر جس حکمت سے والد صاحب نے غیروں سے مطلوبہ کتابیں فراہم کیں اور جو گفتگو آپ کی مولوی بشیر صاحب سے ہوئی وہ روایت متعلقہ میں دیکھنے کے قابل ہے۔غرض اس قسم کے کئی اور واقعات ہیں۔ان کے بیان کرنے کا مقصد اس نفسیاتی