اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 25 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 25

۲۵ بازار میں جاتے ہوئے ایک شخص نے منشی صاحب سے ذکر کیا کہ وہ حاکم فوت ہو گیا ہے۔منشی عبد السمیع صاحب کا رویا من وعن پورا ہوا اور حضرت صاحب کی بات پوری ہوئی گفته الله بود از حلقوم عبد الله بود مقدمہ کی بحث سننے کے بعد حاکم کا فوت ہو جانا مثل متعلقہ سے ثابت ہے۔فمن شاء فلير جع اليه۔منشی فیاض علی صاحب پنشن پانے کے بعد کچھ عرصہ کپورتھلہ میں رہ کر آخر کار کپورتھلہ سے رخصت ہوئے۔ان کی اراضیات اور باغ قصبہ سرادہ میں انتظام چاہتا تھا دہلی میں اپنے پسر مختار احمد صاحب ایم۔اے ایل ٹی کے پاس مقیم تھے۔بیمار ہوئے رویاء دیکھا کہ جمعہ کے دن فوت ہوں گے اور مقبرہ بہشتی میں دفن ہوں گے۔ایسا ہی ہوا۔اور دہلی سے بذریعہ لاری لائے جا کر مقبرہ بہشتی میں مدفون ہوئے۔منشی صاحب کو رویائے صادقہ کثرت سے ہوتے تھے۔منشی صاحب کے بچے کی حیرت انگیز طور پر شفا ایک اور واقعہ اس ضمن میں قابل اظہار ہے مختار احمد صاحب منشی صاحب کا بڑا لڑکا چھٹی جماعت میں میرے ساتھ پڑھتا تھا۔مرگی کی قسم کا ایک عارضہ اسے ہوا جماعت میں بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہو کر گر پڑتا۔پرنسپل صاحب ہیڈ ماسٹر صاحب وغیرہ جو بھی پاس ہوتے مدد کے لئے پہونچتے۔جماعت میں ابتری پھیل جاتی۔کئی دفعہ یہ واقعہ ہوا۔آخر منشی صاحب نے لڑکے کو سکول سے اٹھا لیا اور علاج کے لئے دور ونزدیک کئی طبیبوں سے رجوع کیا۔کوئی کوشش نہ تھی جو اٹھا نہ رکھی ہو۔کوئی علاج نہ تھا جو نہ کیا ہو۔لیکن نہ صحیح تشخیص ہو سکی نہ مرض گیا۔مرگی کی علامات تھیں لیکن بعض باتیں اس کے خلاف بھی تھیں۔آخر مجبور ہو کر منشی صاحب اپنے لڑکے کو قصبہ سرادہ میں لے گئے۔اور منشی صاحب کا بیان تھا کہ میں نے محض مشغلہ کے طور پر ایک معمولی سے ہندو طبیب سے علاج کروانا چاہا اور طبیب مذکور نے