اصحاب احمد (جلد 4) — Page 235
۲۳۵ جو حضرت اقدس کی حسین حیات فَمِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ کا مصداق ہوا۔ایک گروہ خلافت سے وابستہ رہا اور انکی اکثریت اب بہشتی مقبرہ میں آرام فرماتی ہے۔گویا یہ مِنْهُم مَّنْ يَنتَظِور تھی اور انہی میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب بھی شامل تھے۔یہ دونوں گروہ ایسے اصحاب پر مشتمل تھے جو حضور کو روگردان نہیں دکھائے گئے تھے انکے مقابل کا گروہ وہ تھا جو روگردان دکھایا گیا اور جنہوں نے اپنی زندگی میں قادیان سے قطع تعلق کر لیا۔چھ سال خلافت اولیٰ سے وابستہ رہ کر بعدۂ خلافت ثانیہ سے علیحدہ رہے اور مدت العمر حضور کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے رہے۔اس روگردان گروہ کے سرکردہ افراد مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کے متعلق مزید انکشافات حضرت اقدس کو ہوئے۔ان سے امر بالا کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت ہوتی ہے۔حضور نے فرمایا۔مولوی محمد علی صاحب کو رویاء میں کہا آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے آؤ ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ ۱۲ گویا بتلایا کہ وہ وقت آیا کھڑا ہے کہ جب ان کی صالحیت قصہ پارینہ بن کے رہ جائے گی۔چنانچہ انکی آخری ۳۶ ، ۳۷ سالہ زندگی کا ہر لمحہ اس کی صداقت کو الم نشرح کرتا رہا۔خواجہ کمال الدین صاحب کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضور کو بتایا کہ وہ پاگل ہو گئے ہیں اور مسجد میں حضور پر حملہ آور ہوئے اور پھر مسجد سے نکل گئے ہیں۔۱۳ گویا انہوں نے امام جماعت سے بغاوت کر کے جماعت سے الگ ہو جانا تھا۔سو اس مجلس میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب کی بھی عاقبت محمود ہونے کی اطلاع دی گئی تھی جو پوری ہوئی۔فالحمدللہ علی ذالک۔