اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 234 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 234

۲۳۴ حضرت منشی صاحب اور احباب کپورتھلہ کو وعدہ معیت آخرت پیر سراج الحق صاحب نے تذکرۃ المہدی حصہ دوم میں لکھا ہے کہ ” ایک دفعہ قادیان میں بہت سے دوست بیرونجات سے آئے ہوئے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر تھے اور منجملہ ان کے حضرت خلیفہ اول اور مولوی عبدالکریم صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب اور محمد خاں صاحب اور منشی محمد اروڑا صاحب اور مولوی عبد القادر صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب اور شیخ غلام احمد صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب وغیر ہم بھی تھے۔مجلس میں اس بات کا ذکر شروع ہوا کہ اولیاء کو مکاشفات میں بہت کچھ حالات منکشف ہو جاتے ہیں۔اس پر حضرت اقدس تقریر فرماتے رہے اور پھر فرمایا کہ ہمیں آج دکھایا گیا ہے کہ ان حاضر الوقت لوگوں میں سے بعض ہم میں سے پیٹھ دیئے ہوئے بیٹھے ہیں اور ہم سے روگردان ہیں۔یہ بات سن کر سب لوگ ڈر گئے اور استغفار پڑھنے لگ گئے۔اور جب حضرت صاحب اندر تشریف لے گئے تو سید فضل شاہ صاحب بہت گھبرائے ہوئے اٹھے اور ان کا چہرہ فق تھا اور انہوں نے جلدی سے آپ کے دروازہ کی زنجیر ہلائی۔حضرت صاحب واپس تشریف لائے اور دروازہ کھول کر مسکراتے ہوئے پوچھا شاہ صاحب ! کیا بات ہے شاہ صاحب نے عرض کیا کہ میں حضور کو حلف تو نہیں دے سکتا کہ ادب کی جگہ ہے اور نہ میں اوروں کا حال دریافت کرتا ہوں۔صرف مجھے میرا حال بتا دیجئے کہ میں تو روگردان لوگوں میں سے نہیں ہوں؟ حضرت صاحب بہت ہنسے اور فرمایا نہیں شاہ صاحب آپ ان میں سے نہیں ہیں اور پھر ہنستے ہنستے دروازہ بند کر لیا اور شاہ صاحب کی جان میں جان آئی۔اگر ہم اس کا واقعاتی رنگ میں جائزہ لیں تو ظاہر ہوگا کہ ایک وہ گروہ تھا