اصحاب احمد (جلد 4) — Page 204
۲۰۴ کچھ اشعار کا بھی ذکر ہو گیا۔جماعت علی شاہ صاحب نے کہا کہ نظامی سے بڑھ کر فارسی میں کوئی اور لکھنے والا نہیں۔میں نے کہا کوئی شعر نظامی کا نعت میں سناؤ۔انہوں نے یہ شعر پڑھا۔فرستاده رساننده میں نے حضرت صاحب کا یہ شعر انہیں سنایا۔صدر بزم آسمان خاص حجت پروردگار استوار و حجتہ اللہ برزمین ذات خالق را نشان بس بزرگ و استوار وہ کہنے لگا کوئی اردو کا شعر بھی آپ کو یاد ہے۔میں نے قرآن شریف کی تعریف میں یہ اشعار سنائے اس کے منکر جو بات کہتے یونہی اک واہیات کہتے ہیں میرے منه مجھ ނ بات جب ہو کہ میرے پاس آئیں وہ پر بات کہہ جائیں اس دلستاں کا حال سنیں مجھ صورت وہ و جمال سنیں آنکھ پھوٹی تو خیر کان سہی سہی یونہی امتحان سہی وہ کہنے لگا اہل زبان اس سے زیادہ اور کیا کہہ سکتے ہیں۔جماعت علی شاہ صاحب کے پاس ایک مسمریزم پر کتاب تھی۔اور وہ کہنے لگے یہ ہمارے کھانے کمانے کا شغل ہے۔۱۰۳۔میں قادیان میں مسجد مبارک سے ملحق کمرے میں ٹھہرا کرتا تھا۔میں ایک دفعہ سحری کھا رہا تھا حضور تشریف لے آئے۔دیکھ کر فرمایا۔آپ دال سے روٹی کھا رہے ہیں۔اور اسی وقت منتظم کو بلایا۔اور فرمانے لگے