اصحاب احمد (جلد 4) — Page 203
۲۰۳ پاس ہمیشہ بیٹھے پیر دباتے رہتے تھے۔اس وقت منشی اروڑ ا صاحب کسی ضرورت کے لئے اٹھ کر گئے ہوئے تھے۔آپ نے فرمایا کہ مقدمہ کے متعلق میں کچھ لکھا نا چاہتا ہوں۔آپ لکھتے جائیں۔اور اس بات کا خیال رکھنا کہ کوئی لفظ خلاف قانون میری زبان سے نہ نکل جائے۔گو میں نے سینکڑوں فیصلے ہائی کورٹوں کے پڑھے ہیں۔مگر پھر بھی اگر تمہارے خیال میں کوئی ایسا لفظ ہو تو روک دینا۔غرض آپ لکھا تے رہے اور میں لکھتا رہا۔اور میں نے عرض کیا کہ منشی اروڑا صاحب کو قانون کی زیادہ واقفیت ہے انہیں بھی بلا لیا جائے۔حضور نے فرمایا۔وہ مخلص آدمی ہیں اگر ان کو رخصت ملتی تو بھلا ممکن تھا کہ نہ آتے۔میں نے ذکر نہیں کیا کہ وہ آئے ہوئے ہیں۔منشی اروڑ ا صاحب کو جب علم ہوا تو وہ کہنے لگے کہ تم نے کیوں نہ بتایا کہ وہ تو کل کا آیا ہوا ہے۔میں نے کہا تم ہمیں اطلاع کر کے کیوں نہیں آئے تھے۔اب دیکھ لو ہم حاضر ہیں اور آپ غائب ہیں۔غرض اس طرح ہم ہنستے رہے۔۲۰ ۱۰۱۔جب حضور جالندھر میں قیام فرما تھے تو میں اوپر کوٹھے پر گیا۔حضور تنہائی میں بہت لمبی نماز اور رکوع سجود لمبے کر رہے تھے۔ایک خادمہ غالبًا مائی تابی اس کا نام تھا وہ بہت بڑھیا تھی۔حضور کے برابر مصلیٰ پر کھڑی ہوکر نماز پڑھ کر چلی گئی۔میں دیر تک بیٹھا رہا۔جب حضور نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے یہ مسئلہ پوچھا کہ عورت مرد کے ساتھ کھڑی ہو کر نماز پڑھ سکتی ہے یا پیچھے۔حضور نے فرمایا۔اسے پیچھے کھڑا ہونا چاہیئے۔میں نے کہا حضور یہ تابی تو ابھی حضور کے برابر نماز پڑھ کر چلی گئی ہے۔آپ نے فرمایا ہمیں تو خبر نہیں۔وہ کب کھڑی ہوئی اور کب چلی گئی۔۱۰۲۔جماعت علی شاہ صاحب نے منشی فاضل کا امتحان محمد خاں صاحب مرحوم کے ساتھ دیا تھا۔اس تعلق کی وجہ سے وہ کپورتھلہ آگئے۔محمد خاں صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر ان سے کیا۔اور