اصحاب احمد (جلد 4) — Page 174
۱۷۴ نے کہا نہیں۔فرمایا آپ کو کس طرح معلوم ہوا کہ قادیان کوئی جگہ ہے۔اور وہاں پر کوئی ایسا شخص ہے جو تسلی کر سکتا ہے اس نے کہا سنا تھا۔آپ نے ہنس کر فرمایا آپ کا سارا دارو مدار سماعت پر ہی ہے۔اور اس پر پورا یقین رکھتے ہو۔پھر آپ نے ہستی باری پر تقریر فرمائی۔اور سامعین پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ ایک کیفیت طاری ہو گئی اور اس شخص کی دماغی حالت کی یہ کیفیت تھی کہ وہ اقلیدس کی شکلوں کا ذکر کر نے لگا۔اور حضرت مولوی صاحب نے اسے دوا منگوا کر دی۔جب اس کی حالت درست ہوئی۔تو حضرت صاحب کے پیروں کو ہاتھ لگا کر مسجد سے نیچے اتر آیا۔اور حضرت مولوی صاحب اس کے ساتھ ہی اتر آئے۔اس نے یکہ منگوایا اور سوار ہو گیا۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ آپ ایسی جلدی کیوں جاتے ہیں۔اس نے کہا میں مسلمان ہونے کی تیاری کر کے نہیں آیا تھا اور مجھے پورا یقین ہے کہ اگر رات کو میں یہاں رہا تو صبح ہی مجھے مسلمان ہونا پڑے گا۔مجھے خدا پر ایسا یقین آگیا ہے کہ گویا میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔میرے بیوی اور بچے ہیں۔ان سے مشورہ کرلوں۔اگر وہ متفق ہوئے تو پھر آؤں گا۔پھر وہ چلا گیا۔۶۲۔ایک شخص یہودی تھا اور وہ مسلمان ہو کر حضور کی بیعت میں داخل ہو گیا تھا۔ایک دن میں حضور کی محفل میں بیٹھا تھا۔کسی دوست نے حضور سے اس کے متعلق پوچھا آپ کی تعریف تو حضور نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ یہودی ہیں بلکہ یہ فرمایا کہ آپ بنی اسرائیل صاحبان میں سے ہیں۔۶۳۔حضور ایک دن سیر کو تشریف لے جارہے تھے اور میرے پاس ڈبیہ میں پان تھے۔چلتے چلتے میں نے ایک پان نکال کر کھایا۔آپ نے فرمایا ہمیں بھی دو۔میں نے ایک پان پیش کر دیا۔بغیر اس خیال کے کہ پان میں زردہ تھا میں نے دے دیا۔اور آپ نے کھالیا۔کھاتے ہی چکر آیا