اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 161 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 161

۱۶۱ علم ہوا تو نہایت جلدی سے ایسی حالت میں کہ جوتا پہننا بھی مشکل ہو گیا۔حضور ان کے پیچھے نہایت تیز قدم سے چل پڑے چند خدام بھی ہمراہ تھے میں بھی ساتھ تھا۔نہر کے قریب پہنچ کر ان کا یکہ مل گیا اور حضور کو آتا دیکھ کر وہ یکہ سے اتر پڑے اور حضور نے انہیں واپس چلنے کے لئے فرمایا کہ آپ کے واپس ہونے کا مجھے بہت درد پہنچا۔چنانچہ وہ واپس ہوئے۔حضور نے یکہ میں سوار ہونے کے لئے انہیں فرمایا۔اور کہا میں ساتھ ساتھ چلتا ہوں مگر وہ شرمندہ تھے اور وہ سوار نہ ہوئے۔اس کے بعد مہمان خانہ میں پہنچے حضور نے خودان کے بستر اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھایا مگر خدام نے اتار لیا۔حضور نے اسی وقت دونواری پلنگ منگوائے اور ان پر ان کے بسترے کرائے۔اور ان سے پوچھا کہ آپ کیا کھائیں گے۔اور خود ہی فرمایا کیونکہ اس طرف چاول کھائے جاتے ہیں۔اور رات کو دودھ کے لئے پوچھا۔غرضیکہ ان کی تمام ضروریات اپنے سامنے مہیا فرمائیں اور جب تک کھانا آیا وہیں ٹھہرے رہے اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ ایک شخص جو اتنی دور سے آتا ہے۔راستہ کی تکالیف اور صعوبتیں برداشت کرتا ہے۔یہاں پہنچ کر سمجھتا ہے کہ اب میں منزل پر پہنچ گیا۔اگر یہاں آکر بھی اس کو وہی تکلیف ہو تو یقیناً اس کی دل شکنی ہوگی۔ہمارے دوستوں کو اس کا خیال رکھنا چاہیئے۔اس کے بعد جب تک وہ مہمان ٹھہرے رہے حضور کا یہ معمول تھا کہ روزانہ ایک گھنٹہ کے قریب ان کے پاس آکر بیٹھتے اور تقریر وغیرہ فرماتے۔جب وہ واپس ہوئے تو صبح کا وقت تھا۔حضور نے دو گلاس دودھ کے منگوائے اور انہیں فرمایا یہ پی لیجئے۔اور نہر تک انہیں چھوڑنے کے لئے ساتھ گئے۔راستہ میں گھڑی گھڑی ان سے فرماتے رہے کہ آپ تو مسافر ہیں آپ یکہ میں سوار ہو لیں۔مگر وہ سوار نہ ہوئے۔نہر پر پہنچ کر انہیں سوار کرا کر حضور واپس تشریف لائے۔۵۱