اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 152 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 152

۱۵۲ قریب تھے حضور کی خدمت میں پیش کئے کہ حضور اس کے متعلق جو اشتہار چھپیں وہ اس سے صرف ہوں۔حضور بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ ہم تمہارے روپے سے ہی اشتہارات چھپوائیں گے۔ہم نے عرض کی کہ ہم اور بھی روپے بھیجیں گے۔ہم نے اسی وقت رات کو اتر کر بہت سے آدمیوں سے ذکر کیا کہ وہ رجوع بحق ہو کر بچ گیا۔اور صبح کو پھر یہ بات عام ہوگئی۔صبح کو ہندو مسلمانوں کا ایک بہت بڑا مجمع ہو گیا۔کہ معلوم کریں کہ آنقم مر گیا یا نہیں۔پھر ان لوگوں کو یہ الہام سنایا گیا۔اس کے بعد ہم اجازت لے کر قادیان سے امرتسر آئے اور آکر امرتسر میں دیکھا کہ عیسائیوں نے آتھم کا جلوس نکالا ہوا ہے۔ایک ڈولا سا تھا جس میں آٹھم بیٹھا تھا اور اس ڈولے کو اٹھایا ہوا تھا۔اور وہ چپ چاپ ایک طرف کو گردن ڈالے بیٹھا تھا۔پھر ہم کپورتھلہ چلے آئے۔بہت سے آدمیوں نے مجھ سے چھیڑ چھاڑ بھی کی۔ہم جب امرتسر قادیان سے گئے تھے تو شائع شدہ اشتہار لوگوں کو دیئے۔کیونکہ ہم تین دن قادیان ٹھہرے تھے۔اور یہ اشتہار چھپ گئے تھے۔۳۰۔اس واقعہ سے چھ ماہ بعد میں قادیان گیا۔اور وہاں پر شمس الدین صاحب سیکرٹری انجمن حمایت اسلام بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔وہ احمدی نہ تھے۔قادیان سے میں اور شمس الدین صاحب امرتسر آئے۔یہاں قطب الدین صاحب مسگر امرتسری جو بہت مخلص آدمی تھے ان سے ملنے گئے۔انہوں نے کہا کہ یہاں پر ایک عیسائی ہے اس کے پاس عبد اللہ آتھم کی تحریر موجود ہے جس میں آٹھم نے اقرار کیا ہے کہ اس نے ضرور رجوع بحق کیا۔اور وہ خائف رہا۔اور وہ ان کے ساتھ ہرگز نہیں جو مرزا صاحب کی ہتک کرتے ہیں۔میں آپ کو بزرگ جانتا ہوں۔یہ سن کر ہم تینوں اس عیسائی کے پاس گئے اور اس سے وہ تحریر مانگی۔اس نے دور سے دکھائی اور پڑھ کر سنائی اور کہا یہ خاص آتھم کے قلم کی تحریر ہے جو