اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 146 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 146

۱۴۶ خوش الحانی سے پڑھنی شروع کی۔اور آپ کے بدن میں گرمی آنی شروع ہو گئی۔پھر آپ لیٹے رہے اور سنتے رہے۔پھر مجھے ایک اعتراض یاد آ گیا کہ آیت وَإِذْقَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَهِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَة پر یہ اعتراض ہے کہ جو مشورہ کا محتاج ہے وہ خدائی کے لائق نہیں۔قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا اس سے معلوم ہوا کہ اس کا علم بھی کامل نہیں۔کیونکہ اسے معلوم نہ تھا کہ یہ آئندہ فساد اور خونریزیاں کرے گا۔وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَک اس سے معلوم ہوا کہ وہ پاکوں سے دشمنی اور ناپاکوں سے پیار کرتا ہے۔کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو اس خلافت کے لئے پیش کیا تھا۔قَالَ إِنِّي أَعلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ بھلا یہ بھی کوئی جواب ہے جس سے عجز ظاہر ہوتا ہے۔پھر یہ کیا کہ عَلَّمَ ادَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ایک آدمی کو الگ لے جا کر کچھ باتیں چپکے سے سمجھا دیں۔اور پھر کہا کہ تم بتاؤ اگر بچے ہو۔اس میں فریب پایا جاتا ہے۔جب میں نے یہ اعتراضات سنائے تو حضور کو جوش آگیا اور فوراً بیٹھ گئے۔اور بڑے زور کی تقریر جوابا کی۔اور بہت سے لوگ بھی آگئے۔اور دورہ ہٹ گیا۔بہت لمبی تقریر فرمائی کہ کہیں آدم کا خونریزی وغیرہ کرنا ثابت نہیں وغیرہ۔۲۵۔خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم اور عبدالحکیم مرتد جس زمانہ میں لاہور پڑھتے تھے۔وہاں پر ایک شخص جو برہمو سماج کا سیکرٹری اور ایم۔اے تھا آیا حضرت صاحب لاہور میں تھے اس نے آکر کہا کہ تقدیر کے مسئلہ کو میں نے ایسا سمجھا ہوا ہے کہ شاید کسی اور نے نہ سمجھا ہو۔وہ دلائل میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔اس پر حضور نے خود ہی تقدیر پر تقریر شروع فرما دی۔اور تقریر مسلسل دو گھنٹے جاری رکھی۔حضرت مولوی نور الدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب بھی اس میں موجود تھے۔اور نواب فتح علی خاں صاحب قزلباش بھی موجود تھے۔تقریر کے ختم ہونے پر جب