اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 144 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 144

۱۴۴ رئیس اور علماء میں شمار ہوتے تھے ) کچھ عرصہ کے بعد حضور مہندی لگوانے لگے۔اس وقت ایک آریہ آگیا جو ایم۔اے تھا۔اس نے کوئی اعتراض اسلام پر کیا۔حضرت نے ڈاکٹر صاحب سے فرمایا۔آپ ان سے ذرا گفتگو کریں تو میں مہندی لگالوں۔ڈاکٹر صاحب جواب دینے لگے۔مگر اس آریہ نے جو جوابی تقریر کی تو ڈاکٹر صاحب خاموش ہو گئے۔حضرت صاحب نے یہ دیکھ کر فوراً مہندی لگوانی چھوڑ دی اور اسے جواب دینا شروع کر دیا اور وہی تقریر کی جو ڈاکٹر صاحب نے کی تھی۔اور اس تقریر کو ایسے رنگ میں بیان فرمایا۔کہ وہ آریہ حضور کے آگے سجدہ میں گر پڑا۔حضور نے ہاتھ سے اسے اٹھایا پھر وہ دونوں ہاتھوں سے سلام کر کے پچھلے پیروں ہٹتا ہوا چلا گیا۔پھر شام کے ۴- ۵ بجے ہوں گے تو ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں تخلیہ چاہتا ہوں۔میں نے حضور سے عرض کی۔چنا نچہ ڈاکٹر صاحب حضرت صاحب کے پاس تنہائی میں چلے گئے۔اور میں اور مولوی عبداللہ صاحب سنوری اور محمد خاں صاحب ایک کوٹھڑی میں چلے گئے۔بعد میں ڈاکٹر صاحب نے ذکر کیا کہ میں نے بہت اصرار کیا کہ مجھے بیعت کر لیں۔فرمایا کہ آپ جلدی نہ کریں۔سوچ سمجھ لیں۔دو دن رہ کر ہم واپس آگئے۔۲۰۔کئی دفعہ ایسا موقعہ ہوا ہے کہ کسی شخص نے بیعت کرنی چاہی۔مگر حضرت صاحب نے اس کی بیعت نہ لی۔۲۱۔ایک شخص نے ایک کتاب لکھی۔میں نے حضرت صاحب کے حضور وہ کتاب پیش کی۔حضور نے ہاتھ سے وہ کتاب پرے کر دی اور فرمایا کہ جب مسلمانوں کے سینکڑوں بچے عیسائی ہو گئے۔اس وقت یہ کتاب نہ لکھی۔اب جو مصنف کا اپنا لڑکا عیسائی ہو گیا تو یہ کتاب لکھی۔اس میں برکت نہیں ہو سکتی۔۲۲۔ایک دفعہ میں قادیان میں تقریباً ایک ماہ تک ٹھہرا رہا۔مولوی