اصحاب احمد (جلد 4) — Page 143
۱۴۳ پھر حضور کو ہم اپنے ہمراہ لے آئے اور محلہ قائم پورہ کپورتھلہ میں جس مکان میں پرانا ڈاکخانہ بعد میں رہا ہے۔وہاں حضور کو ٹھہرایا۔وہاں بہت سے لوگ حضور کے پاس جمع ہو گئے۔کرنیل محمد علی خان صاحب اور مولوی غلام محمد صاحب وغیرہ۔حضور تقریر فرماتے رہے۔کچھ تصوف کے رنگ میں کرنیل صاحب نے سوال کیا تھا جس کے جواب میں یہ تقریر تھی۔حاضرین بہت متاثر ہوئے۔مولوی غلام محمد صاحب جو کپورتھلہ کے علماء میں سے تھے آبدیدہ ہو گئے۔اور انہوں نے ہاتھ بڑھائے کہ مجھے آپ بیعت کر لیں۔مگر حضور نے بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔بعد میں مولوی مذکور سخت مخالف رہے۔غرض ایک دن قیام فرما کر حضور قادیان تشریف لے گئے اور لدھیانہ سے آئے تھے۔ہم کرتار پور کے سٹیشن پر پہنچانے گئے۔یعنی منشی اروڑا صاحب، محمد خان صاحب اور میں۔اگر کوئی اور بھی ساتھ کرتار پور گیا ہو تو مجھے یا دنہیں۔۱۸۔کرتار پور کے سٹیشن پر ہم نے ظہر وعصر کی نماز جمع کی حضرت صاحب کے ساتھ۔نماز کے بعد میں نے عرض کی کہ کس قدر مسافت پر نماز جمع کر سکتے ہیں اور قصر کر سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ انسان کی حالت کے اوپر یہ بات ہے۔ایک شخص ناطاقت اور ضعیف العمر ہو تو وہ پانچ چھ میل پر بھی قصر کر سکتا ہے۔اور مثال دی کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں نماز قصر کی حالانکہ وہ مکہ شریف سے قریب جگہ ہے۔وا۔ایک دفعہ جب آپ لدھیانہ قیام پذیر تھے۔تو میں اور محمد خاں مرحوم ڈاکٹر صادق علی صاحب کو لدھیانہ لے گئے ( ڈاکٹر صاحب کپورتھلہ کے بقیہ حاشیہ : استغراق طاری تھی کہ وزیر نے تین دفعہ سلام کیا مگر آپ اس حالت میں محور ہے اور اس کی طرف توجہ نہ ہوئی۔‘۴۷