اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 116 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 116

۱۱۶ بہت ہی کم لوگوں کے دلوں میں۔”میاں عبداللہ صاحب سنوری بھی اپنے اندر ایسا ہی عشق رکھتے تھے۔ایک دفعہ وہ قادیان میں آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان سے کوئی کام لے رہے تھے۔اس لئے جب میاں عبداللہ صاحب سنوری کی چھٹی ختم ہوگئی اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جانے کیلئے اجازت طلب کی تو حضور نے فرمایا ابھی ٹھہر جاؤ۔چنانچہ انہوں نے مزید رخصت کے لئے درخواست بھیجوا دی مگر محکمہ کی طرف سے جواب آیا کہ اور چھٹی نہیں مل سکتی۔انہوں نے اس امر کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سے ذکر کیا تو آپ نے پھر فرمایا کہ ابھی ٹھہر و۔چنانچہ انہوں نے لکھ دیا کہ میں ابھی نہیں آسکتا۔اس پر محکمہ والوں نے انہیں ڈسمس کر دیا۔چار یا چھ مہینے جتنا عرصہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں رہنے کے لئے کہا تھا وہ یہاں ٹھہرے رہے۔پھر جب واپس آگئے تو محکمہ نے یہ سوال اٹھا دیا کہ جس افسر نے انہیں ڈسمس کیا ہے۔اس افسر کا یہ حق ہی نہیں تھا کہ وہ انہیں ڈسمس کرتا۔چنانچہ وہ پھر اپنی جگہ پر بحال کئے گئے۔اور پچھلے مہینوں کی جو وہ قادیان میں گزار گئے تھے تنخواہ بھی مل گئی۔اسی طرح منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کے ساتھ واقعہ پیش آیا۔جو کل ہی ڈلہوزی کے راستہ میں میاں عطاء اللہ صاحب وکیل سلمہ اللہ تعالیٰ نے سنایا۔یہ واقعہ الحکم ۱۴ اپریل ۱۹۳۴ء میں بھی چھپ چکا ہے۔اس لئے منشی صاحب کے اپنے الفاظ میں اسے بیان کر دیتا ہوں : میں جب سرشتہ دار ہو گیا اور پیشی میں کام کرتا تھا تو ایک دفعہ مسلیں وغیرہ بند کر کے قادیان چلا آیا۔تیسرے دن میں نے اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا ابھی ٹھہر ہیں۔پھر عرض کرنا مناسب نہ سمجھا کہ آپ ہی فرمائیں گے۔اس پر ایک مہینہ گزر گیا۔ادھر مسلیں میرے گھر