اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 115 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 115

۱۱۵ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب فرصت ملی تو وہ اطلاع دینے کا وقت نہ تھا۔اس لئے آپ بغیر اطلاع دیئے ہی چل پڑے۔منشی اروڑے خان صاحب نے یہ خبر سنی تو وہ خوشی میں ننگے سر اور ننگے پاؤں اڈے کی طرف بھاگے۔مگر چونکہ خبر دینے والا شدید ترین مخالف تھا اور ہمیشہ احمدیوں سے تمسخر کرتا رہتا تھا۔ان کا بیان تھا کہ تھوڑی دور جا کر مجھے خیال آیا کہ یہ بڑا خبیث دشمن ہے اس نے ضرور مجھ سے ہنسی کی ہوگی۔چنانچہ مجھ پر جنون سا طاری ہو گیا۔اور یہ خیال کر کے کہ نہ معلوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام آئے بھی ہیں یا نہیں۔میں کھڑا ہو گیا اور میں نے بے تحاشہ برا بھلا کہنا شروع کر دیا کہ تو بڑا خبیث اور بدمعاش ہے تو کبھی میرا پیچھا نہیں چھوڑتا اور ہمیشہ ہنسی کرتا رہتا ہے۔بھلا ہماری قسمت کہاں کہ حضرت صاحب کپورتھلہ تشریف لائیں۔وہ کہنے لگا۔آپ ناراض نہ ہوں اور جا کر دیکھ لیں۔مرزا صاحب واقعہ میں آئے ہوئے ہیں۔اس نے کہا تو پھر میں دوڑ پڑا۔مگر پھر خیال آیا کہ اس نے ضرور مجھ سے دھوکا کیا ہے۔چنانچہ پھر میں اسے کو سنے لگا کہ تو بڑا جھوٹا ہے۔ہمیشہ مجھ سے مذاق کرتا رہتا ہے۔ہماری ایسی قسمت کہاں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمارے تشریف لائیں۔مگر اس نے پھر کہا کہ منشی صاحب وقت ضائع نہ کریں۔مرزا صاحب واقعہ میں آئے ہوئے ہیں۔چنانچہ پھر اس خیال سے کہ شاید آ ہی گئے ہوں میں دوڑ پڑا۔مگر پھر یہ خیال آجاتا کہ کہیں اس نے دھوکا ہی نہ دیا ہو۔چنانچہ پھر اسے ڈانٹا۔آخر وہ کہنے لگا مجھے برا بھلا نہ کہو اور جا کر اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔واقعہ میں مرزا صاحب آئے ہوئے ہیں۔غرض میں کبھی دوڑتا اور کبھی یہ خیال کر کے کہ مجھ سے مذاق ہی نہ کیا گیا ہو۔میری یہی حالت تھی کہ میں نے سامنے کی طرف جو دیکھا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لا رہے تھے۔اب یہ والہانہ محبت اور محبت کا رنگ لوگوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے۔یقیناً