اصحاب احمد (جلد 4) — Page 112
۱۱۲ مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کر دونگا۔پھر کہنے لگے جب میرے پاس ایک پونڈ کے برابر رقم جمع ہوگئی تو وہ رقم دے کر میں نے ایک پونڈ لے لیا۔پھر دوسرے پونڈ کے لئے رقم جمع کرنی شروع کردی اور جب کچھ عرصہ کے بعد اس کے لئے رقم جمع ہوگئی تو دوسرا پونڈ لے لیا۔اسی طرح میں آہستہ آہستہ کچھ رقم جمع کر کے انہیں پونڈوں کی صورت میں تبدیل کرتا رہا۔اور میرا منشاء یہ تھا کہ میں یہ پونڈ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کروں گا۔مگر جب میرے دل کی آرزو پوری ہوگئی اور پونڈ میرے پاس جمع ہو گئے تو۔۔۔۔۔۔۔یہاں تک وہ پہنچے تھے کہ پھر ان پر رقت کی حالت طاری ہوگئی اور وہ رونے لگ گئے۔آخر روتے روتے انہوں نے اس فقرے کو اس طرح پورا کیا کہ جب پونڈ میرے پاس جمع ہو گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوگئی۔یہ اخلاص کا کیسا شاندار نمونہ ہے کہ ایک شخص چندے بھی دیتا ہے قربانیاں بھی کرتا ہے۔مہینہ میں ایک دفعہ نہیں۔دو دفعہ نہیں۔بلکہ تین تین دفعہ جمعہ پڑھنے کیلئے قادیان پہنچ جاتا ہے۔سلسلہ کے اخبار اور کتا بیں بھی خریدتا ہے۔ایک معمولی سی تنخواہ ہوتے ہوئے جب کہ آج اس تنخواہ سے بہت زیادہ تنخواہیں وصول کرنے والے اس قربانی کا دسواں بلکہ بیسواں حصہ بھی قربانی نہیں کرتے۔اس کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ امیر لوگ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں سونا پیش کرتے ہیں تو میں ان سے پیچھے کیوں رہوں چنانچہ وہ ایک نہایت ہی قلیل تنخواہ میں سے ماہوار کچھ رقم جمع کرتا اور ایک عرصہ دراز تک جمع کرتا رہتا ہے۔نہ معلوم اس دوران میں اس نے اپنے گھر میں کیا کیا تنگیاں برداشت کی ہوں گی۔کیا کیا تکلیفیں تھیں جو اس نے خوشی سے جھیلی ہوں گی۔محض اس لئے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں اشرفیاں پیش کر سکے۔