اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 4 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 4

خاکسار پر یہ مضمون گویا ایک دین واجب اور فرض لازم ہے۔اس لئے جہاں تک میری بساط ہے میں والد صاحب کے حالات لکھتا ہوں۔حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے ماتحت خاکسار نے والد صاحب کی روایات انہی کے الفاظ میں جمع کی تھیں۔جو رسالہ ریویو آف ریلیجنز جنوری ۱۹۴۲ء میں شائع ہو چکی ہیں اور ۶۴ صفحات پر مشتمل ہیں۔ابھی یہ روایات ختم نہیں ہوئی تھیں کہ والد صاحب کا وصال ہو گیا۔دراصل والد صاحب کی سیرت اور شمائل روایات مذکورہ سے بخوبی روشن ہیں۔غلام اور آقا کا تعلق جہاں آقا کے خصائل اور اخلاق کا آئینہ دار ہوتا ہے وہاں غلام کی خدمت گری اور جان نثاری کا بھی حامل ہوتا ہے۔آنکس که گفت قصه ما هم ز ما شنود تاہم بعض سوانح اور واقعات کا لکھنا ضروری ہے اس نیت سے کہ اس میں جو نیک نمونہ ہو وہ دوسروں کے لئے مفید ثابت ہو۔خاکسار کی ولادت نومبر ۱۸۹۶ء کی ہے اور چار سال کی عمر سے واقعات مجھے بخوبی یاد ہیں۔والد صاحب ۲۰ اگست ۱۹۴۱ء کو فوت ہوئے۔اس لحاظ سے کم از کم چالیس سالہ آپ کی زندگی میرے مشاہدہ سے گذری ہے۔اور اس سے پیشتر وقتاً فوقتاً جو حالات والد صاحب مجھے سناتے رہے وہ بھی درج کروں گا۔ولادت و شجره نسب والد صاحب کا تاریخی نام” انظار حسین تھا۔اور سال وفات’ وارث فردوس باش ہے گویا آپ ۱۲۸۰ ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۳۶۰ھ میں آپ کا وصال ہوا۔اس لحاظ سے ۸۰ سال یا سنہ عیسوی کے پیش نظر ۷۸ سال آپ کی عمر ہوئی شجرہ نسب حسب ذیل ہے۔