اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 59 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 59

۵۹ کے ایام میں لکھی جاتی ہے۔نیک اعمال کرنے اور بدیوں سے بچنے کی توفیق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کامل محبت سے عطا ہوتی ہے۔یہ ایک مجرب عمل ہے۔جس قدر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق محبت بڑھتا جائے گا اسی قدر خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا ہوتا جائے گا۔اب اس کے سوا کوئی راہ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ: ” مومن اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک آلام بصورت انعام نظر نہ آنے لگیں اور ان تکالیف و مصائب کو جو خدا کی راہ میں اس کو پہنچیں۔ان سے تلذذ وسرور حاصل نہ ہو۔الا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنَ الْقُلُوبُ قرآن شریف میں وارد ہے۔اور اس کا عملی نمونہ ( گورداسپور کے ایک مقدمہ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف تھا ) میں نے دیکھا آپ باہر کھڑے ایک شخص سے باتیں کر رہے تھے اور میں بھی موجود تھا تو ڈاکٹر فیض قادر صاحب نے آکر کہا کہ یہ مجسٹریٹ آپ کو سزا دے گا۔یہ سن کر آپ ہنس پڑے اور بہت ہنسے۔فرمایا کہ ہمارے مولا کو اگر یہ منظور ہو کہ ہم پابہ زنجیر جیل میں جائیں تو ہم کیوں ناراض ہوں۔یہ فرما کر پھر ہنسنے لگے۔راضی برضائے الہی اور طمانیت قلب کا یہ ایک نظارہ ہم نے دیکھا آپ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں ہمیشہ خوش رہنے کے لئے ترک مراد جیسی کوئی چیز نہیں، ترک مراد کے یہ معنے ہیں کہ دنیا کی کوئی مراد ہی دل میں نہ ہو۔جو کچھ ہو وہ دین ہی دین ہو۔مصائب اور تکالیف کے متعلق فرمایا کہ انبیاء اور رسل اور خاص بندگان خدا بھی اس سے خالی نہیں، مگر تعلق باللہ رکھنے والوں کے لئے مصائب ان کی ترقی اور درجات بلند ہونے کا باعث ہوتے ہیں اور دنیا داروں کے واسطے ان کی شامت اعمال اور فاسقانہ زندگی کا نتیجہ ہوتا ہے۔اب مجھ کو اصل الفاظ یاد آئے فرمایا: