اصحاب احمد (جلد 4) — Page 55
(۱) ابطال تناسخ و مقابلہ وید قرآن۔(۲) مسئلہ الہام پر حضرت اقدس کی ستیا نند اگنی ہوتری بانی دیو دھرم سے خط و کتابت۔(۳) مرزا غلام احمد رئیس قادیان و آریہ سماج۔(۴) خدا تعالیٰ کے خالق ہونے پر دلائل بجواب با وا نرائن سنگھ وکیل امرتسر۔(۵) مضمون مندرجہ اخبار عام مطبوعہ ۵ - مئی ۱۸۸۵ء۔‘۲۵ اس تفصیل سے ظاہر ہے کہ حضرت منشی صاحب کیسے بے بہا اور قیمتی خطوط کے محفوظ کرنے کا موجب بنے ہیں۔فجزاه الله احسن الجزاء۔حضرت کا سفر دہلی حضرت اقدس ۱۲۳ اکتوبر ۱۹۰۵ ء کو دہلی کے لئے روانہ ہوئے۔امرتسر کرتار پور اور پھگواڑہ کے تعلق میں مرقوم ہے : سٹیشن امرتسر پر گاڑی قریب پانچ گھنٹہ کے ٹھہری۔شہر میں احباب کو خبر ہوئی۔حضرت اور خدام کی ملاقات کے واسطے دوڑے آئے۔ساتھ ہی رات کا کھانا بھی پر تکلف تیار کر کے لائے اور گاڑی کی روانگی تک حضرت کی خدمت میں حاضر رہے۔اور قافلہ کو گاڑی بدلنے میں بہت مدددی اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔امرتسر کے سٹیشن پر کپورتھلہ سے برادر منشی ظفر احمد صاحب، منشی محمد اروڑا صاحب اور ڈاکٹر فیض قادر صاحب پہنچ گئے۔راستہ میں کرتار پورٹیشن پر عبدالمجید خاں۔مفتی صاحب و دیگر احباب کپورتھلہ۔پھگواڑہ پر حبیب الرحمن صاحب اور احباب لدھیانہ لدھیانہ میں حضرت کی زیارت کے واسطے رات کے وقت مختلف سٹیشنوں پر حاضر تھے۔۲۶ ذكر الحبيب حبيب اس عنوان کے تحت حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی رقم فرماتے ہیں کہ : ♡♡