اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 33 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 33

۳۳ وقت پر کیوں نہیں آتے۔آخر ایک دن اس نے حکام بالا کی طرف رو بکارلکھی کہ میرے سرشتہ دار کی تنخواہ اتنے ایام کی بوجہ غیر حاضری وضع کرلی جائے۔والد صاحب جب پیشی میں بیٹھے تو ایک اہلمد نے وہ رو بکار پیشی میں ہی والد صاحب کو دکھائی۔آپ نے اسے پڑھ کر و ہیں پھاڑ دیا۔حاکم قدرتاً زیادہ برافروختہ ہوا۔کہ آپ نے یہ کیا کیا۔والد صاحب نے کہا میری بات سنیں۔یہ روبکار آیا آپ نے انتقاما لکھی ہے۔اگر ایسا ہے تو دوبارہ لکھ لیں۔اور اگر شریفانہ تنبیہہ مطلوب تھی تو وہ ہوگئی ہے۔اس نے آخر یہی کہا کہ میری غرض تنبیہہ تھی۔غرض بات ٹل گئی۔بعد میں عدالت کے کارکنوں نے اسے سمجھایا کہ محکمہ کی نیک نامی اور کارگزاری منشی صاحب پر موقوف ہے۔ان سے بگاڑ کر آپ فائدہ میں نہیں رہیں گے۔حالات معلوم کرنے کے بعد اس نے خود والد صاحب سے کہا کہ آپ بیشک وقت پر نہ آیا کریں اور کام اسی طریق پر جاری رکھیں جس طرح آپ چاہتے ہیں۔دوم : ہائی کورٹ کا ایک جج کسی بات میں آپ سے ناراض ہو گیا۔اور اس نے آپ کے تبادلہ کے لئے رو بکار لکھی۔والد صاحب نے کہا کہ آپ بے شک رو بکارلکھیں میری تبدیلی اگر ہوئی تو انشاء اللہ ترقی پر جاؤں گا۔اور ساتھ ہی یہ مصرعہ پڑھا عدو شود سبب خیر گر خدا خواہد وہ حج بہت شریف تھا کہنے لگا کہ منشی صاحب پھر ہم تو آپ کے دشمن ہوئے نا۔والد صاحب نے برجستہ کہا کہ آپ جو یہ رو بکا لکھ رہے ہیں یہ کونسی دوستی ہے۔اس کا غصہ فرو ہو گیا۔رو بکار چاک کر دی اور کہا کہ منشی صاحب میں آپ کا دشمن بننا نہیں چاہتا۔غرضیکہ حضرت صاحب کے تعلق کی وجہ سے حکام بھی والد صاحب کی بڑی دلجوئی کرتے تھے۔اور اللہ والوں سے بہت محتاط رہتے تھے۔ان میں ان حکام کی ذاتی شرافت کا بھی بہت دخل تھا اور والد صاحب کی حسن کارکردگی کا بھی۔سوم : والد صاحب نے چیف حج کی طرف سے صدراعظم کو کسی باز پرس کا جواب دیا۔صدراعظم یعنی مسٹر فرنچ جو بعد میں چیف سیکرٹری پنجاب گورنمنٹ ہوئے۔بڑے دھڑتے کے آدمی تھے۔غیر معمولی انتظامی قابلیت اور تحریر میں کمال انہیں حاصل تھا۔ان کا