اصحاب احمد (جلد 4) — Page 236
۲۳۶ وعدہ معیت آخرت کے بارے میں ایک اور روایت حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ، منشی ظفر احمد صاحب منشی محمد اروڑا صاحب اور محمد خاں صاحب اور منشی عبدالرحمن صاحب کا ذکر کر کے رقم فرماتے ہیں۔” حضور علیہ السلام کا ایک خط اس جگہ نقل کرتا ہوں جو کہ حضور نے اپنے دست مبارک سے خاں صاحب محمد خاں مرحوم کو لکھا تھا۔اس خط کے لکھنے کا باعث یہ سنا گیا ہے کہ حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب نے بعض دوستوں کی غالباً کسی غفلت پر کچھ کے الفاظ تحریر فرمائے تھے جن کو خان صاحب مرحوم نے اپنے متعلق گمان کیا۔جب یہ بات حضرت تک پہنچی تو حضرت نے خاں نید صاحب کو یہ خط لکھا۔نئی پود کی خاطر تھوڑی سی مزید تفصیل درج کی جاتی ہے: ا حضرت خلیفتہ المسیح اول اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی اور میاں محمد خاں صاحب کی عاقبت محمود ہونے کے متعلق غیر مبائعین کو بھی اقرار ہے۔مولوی عبد الکریم صاحب پہلے شخص ہیں جو بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے میاں محمد خاں صاحب قیام بہشتی مقبرہ سے قبل وفات پاگئے۔ان کے متعلق اس کتاب کے آخر پر مزید ذکر بھی آتا ہے۔ب منشی محمد اروڑا صاحب۔مولوی عبد القادر صاحب لدھیانوی اور شیخ غلام احمد صاحب واعظ نومسلم خلافت ثانیہ سے وابستہ رہے اور بہشتی مقبرہ میں مدفون ہوئے۔ج :۔مولوی محمد احسن صاحب بالآخر تائب ہو کر خلافت ثانیہ سے وابستہ ہو گئے۔د: اگر راوی پیر سراج الحق صاحب خود اس مجلس میں موجود تھے۔تو وہ بھی خلافت ثانیہ سے وابستہ رہے اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔ان سب کے مقابل روگردان گروہ کے افراد مولوی محمد علی صاحب خواجہ صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے خلافت ثانیہ سے بغاوت کی اور بہشتی مقبرہ سے بھی محروم رہے۔