اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 231 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 231

۲۳۱ سے بذریعہ تارکپورتھلہ کی جماعت کو اطلاع پہنچی۔ہم سب احباب جماعت صدمہ رسیدہ دلوں کے ساتھ قادیان کی طرف روانہ ہوئے۔جب ہم امرتسر پہنچے تو ریلوے پلیٹ فارم پر حضرت مرزا سلطان احمد صاحب رضی اللہ عنہ ابن سید نا حضرت اقدس علیہ السلام کو پر آشوب اور بیقراری کی حالت میں ٹہلتے ہوئے دیکھا۔حضرت مرزا صاحب ان دنوں جالندھر میں افسر مال تھے۔اور اس وقت جالندھر سے روانہ ہو کر قادیان تشریف لے جارہے تھے۔ہم نے آگے بڑھ کر اظہار تعزیت و افسوس کیا جس کا آپ نے مناسب جواب دیا۔اور فرمایا کہ میرے ساتھ ایک عجیب واقعہ گزرا ہے۔ہمارے دریافت کرنے پر آپ نے بتایا کہ میں دورہ پر تھا اور جالندھر کے بعض نواحی دیہات میں گھوڑے پر جا رہا تھا۔(حضرت مرزا صاحب اپنی ملازمت کے دوران میں عام طور پر صرف ایک دو اہلکاروں کو ساتھ لے کر دورہ پر نکلتے تھے۔زیادہ عملہ کو ساتھ لے کر جانا رعایا پر بوجھ سمجھتے ہوئے ناپسند فرماتے تھے۔ناقل ) کہ اچانک مجھے زور سے یہ الہامی آواز سنائی دی:- ماتم پرسی اس آواز کے سنائی دینے کے ساتھ ہی مجھ پر شدید ہم وغم کی کیفیت طاری ہوگئی۔اور میری کمر بوجھ سے دب گئی۔چونکہ میرا زیادہ تعلق تائی صاحبہ سے تھا۔اس سے میرا ذہن سب سے پہلے انہی کی طرف منتقل ہوا کہ شاید ان کی وفات ہوگئی ہو۔لیکن معاً بعد مجھے خیال پیدا ہوا کہ تائی صاحبہ کا مقام اللہ تعالیٰ کے حضور اتنا بلند نہیں کہ اللہ تعالیٰ خود ان کے لئے ماتم پرسی کرے، چنانچہ مجھے یقین ہو گیا کہ تائی صاحبہ نہیں۔بلکہ حضرت والد ماجد ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام) وفات پاگئے ہیں۔اور وہی علو مرتبت کے اعتبار سے یہ مقام رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے -