اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 218 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 218

۲۱۸ ہمارا تو پہلے سے ہی ایمان ہے۔آپ (منشی اروڑا صاحب) یہ ابتلا کیا لئے پھرتے تھے۔اس پر دونوں صاحب مجھ سے لپٹ گئے (بغلگیر ہو گئے ) کہ ہم اب تین ہو گئے۔پھر ہم نے اسی وقت بلا توقف جا کر منشی عبدالرحمن صاحب سے ذکر کیا تو انہوں نے معا کہا۔امنا و صدقنا۔۱۳۔حضور کا ایک خط آیا۔لفافہ پر ہم تین آدمیوں کا نام لکھا تھا۔منشی اروڑا صاحب کا ، محمد خاں صاحب کا اور میرا۔بات یہ ہوئی تھی کہ حضور کے ہاں کوئی ختنہ یا عقیقہ یا اسی قسم کی کوئی تقریب تھی۔اس کی اطلاع ہمیں نہیں آئی تھی۔اس پر ہم تینوں نے حضور کو لکھا کہ ہمیں اس بارے میں اطلاع نہیں ہوئی اور شرف شمولیت نہیں ملا۔اس کا ہمیں صدمہ ہے۔اس پر آپ کا یہ خط آیا کہ واقعی آپ کو صدمہ ہوا ہوگا۔میں نے مولوی عبدالکریم صاحب کو کہہ دیا تھا کہ بعض خاص خاص دوستوں کو شامل ہونے کے لئے اطلاع دے دو۔انہیں سہو ہو گیا جو آپ کو اطلاع نہیں دی اور اس کا مجھے بھی قلق ہے۔۱۴۔جب حضور عربی لکھتے تھے تو ساتھ ساتھ خوش الحانی سے پڑھتے جاتے تھے۔میں نے بارہا دیکھا ہے۔’۱۵۔ایک دفعہ حضور کوئی کتاب لکھ رہے تھے۔ملاقات بند تھی۔مولوی عبدالکریم صاحب کھڑکی میں اوپر بیٹھے ہوئے تھے۔میں حضور کی ملاقات کے لئے جا رہا تھا۔مولوی عبدالکریم صاحب نے مجھے جاتا دیکھ کر کہا۔یا ظفر۔آخدا کے واسطے یہ وقت نہیں ہے ( مولوی صاحب مرحوم مجھ سے بہت ہی بے تکلفی اور محبت رکھتے تھے ) لیکن میں نے جا کر دستک دی۔حضور نے کواڑ کھول دیئے۔میں ذرا سی دیر بیٹھ کر چلا آیا۔۱۶۔حضور فرماتے تھے کہ جو کتاب میں لکھتا ہوں وہ پوری مکمل میرے اندر تیار ہو جاتی ہے۔حتی کہ میرا قلم اتنی جلدی نہیں چل سکتا۔جتنی