اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 194 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 194

۱۹۴ لے آیا۔ابھی وہ کتاب میرے پاس ہی تھی کہ میر صاحب مرتد ہو گئے۔اس کے بعد کتاب مذکور کا انہوں نے مجھ سے مطالبہ کیا۔میں نے نہ بھیجی۔پھر انہوں نے حضرت صاحب سے میری شکایت کی کہ کتاب نہیں دیتا۔حضرت صاحب نے مجھے لکھا کہ آپ ان کی کتاب واپس کردیں۔میں خاموش ہو گیا۔پھر دوبارہ میر صاحب نے شکایت کی۔اور مجھے دوبارہ حضور نے لکھا۔ان دنوں ان کے ارتداد کی وجہ سے الہام اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ پر مخالفین بہت اعتراض کرتے تھے۔میں قادیان گیا مولوی عبد اللہ صاحب سنوری کی موجودگی میں حضور نے مجھے فرمایا کہ آپ ان کی کتاب کیوں نہیں دیتے۔مولوی عبد اللہ صاحب سنوری نے عرض کی کہ حضور کی ضمانت پر تو اس نے کتاب نہیں دی تھی۔نوٹ: بعض دفعہ مولوی عبداللہ صاحب اور میں حضرت صاحب سے اس طرح بے تکلف باتیں کر لیا کرتے تھے جس طرح دوست دوست سے کر لیتا ہے اور حضور ہنستے رہتے۔اور میں نے عرض کی کہ اتنا ذخیرہ عرفان و معرفت کا اس کتاب کے اندر ہے میں کس طرح اسے واپس کر دوں حضور نے فرمایا۔واپس کرنی چاہیئے۔آپ جانیں وہ جانیں۔اس کے بعد میں کپورتھلہ آیا۔ایک دن میں وہ کتاب دیکھ رہا تھا تو اس میں ایک خط عباس علی کے نام حضرت صاحب کا عباس علی کے قلم سے نقل کردہ درج تھا۔جس میں لکھا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کسی وقت مرتد ہو جائیں گے۔آپ کثرت سے توبہ استغفار اور مجھ سے ملاقات کریں۔جب یہ خط میں نے پڑھا۔تو میں فوراً قادیان چلا گیا۔اور حضور کے سامنے وہ عبارت نقل کردہ عباس علی پیش کر دی۔فرمایا یہی سر تھا آپ کتاب واپس نہیں کرتے تھے۔پھر وہ کتاب شیخ یعقوب علی صاحب نے مجھ سے لے لی۔یہ خطوط مکتوبات احمد یہ جلد اول کی شکل میں حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب رضی اللہ عنہ نے شائع کر دئے تھے۔