اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 190 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 190

190 تھے۔اور میرے والد صاحب مرحوم کے ان سے جب کہ والد صاحب گجرات میں بندوبست میں ملازم تھے۔سید امام علی شاہ صاحب سے بہت عمدہ تعلقات قائم ہو گئے تھے۔رحیم بخش صاحب سے جب میں نے اس تعلق کا ذکر کیا تو وہ بہت خوش ہوئے۔میں نے ان سے کتابیں طلب کیں۔انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ ہمارے ہوکر مرزا صاحب کے ساتھ کس طرح ہیں۔میں نے کہا ان وہابیوں کی شکست ہماری فتح ہے۔کہنے لگے یہ بات تو ٹھیک ہے۔چنانچہ انہوں نے کتابیں دے دیں۔وہ بھی لاکر میں نے حضور کو دے دیں۔صحیح بخاری ابھی تک نہ ملی تھی۔پھر حبیب الرحمن صاحب مرحوم جو اس اثناء میں حاجی پور سے دہلی آگئے تھے۔وہ اور میں مدرسہ شاہ عبدالعزیز صاحب میں گئے اور اس مدرسہ کے پاس میرے ماموں حافظ محمد صالح صاحب صدر قانونگو دہلی کا مکان تھا۔وہاں جا کر ہم نے بخاری شریف کا آخری حصہ دیکھنے کے لئے مانگا انہوں نے دے دیا۔ہم لے آئے۔مولوی محمد بشیر صاحب مباحثہ کے لئے آگئے۔ایک بڑا لمبا دالان تھا۔جس میں ایک کوٹھڑی تھی۔اس کو ٹھڑی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مولوی عبدالکریم صاحب اور عبدالقدوس غیر احمدی ایڈیٹر صحیفہ قدسی اور ہم لوگ بیٹھے تھے۔مولوی محمد بشیر صاحب آگئے۔ظاہراً بڑے خضر صورت تھے اور حضرت صاحب سے بڑے ادب اور تعظیم کے ساتھ ملے اور معانقہ کیا اور بیٹھ گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا یہ کوئی ہار جیت کا معاملہ نہیں یہیں بیٹھے ہوئے آپ سوال کریں میں جواب دوں۔بات طے ہو جائے۔مگر اس کو یہ حوصلہ نہ ہوا کہ حضور کے سامنے بیٹھ کر سوال جواب کر سکتا۔اس لئے اس نے اجازت چاہی کہ وہ دالان میں ایک گوشہ میں بیٹھ کر لکھ لے۔دالان میں بہت سے آدمی معہ جان والوں کے بیٹھے تھے۔حضور نے فرمایا۔بہت اچھا۔سو وہ