اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 189 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 189

۱۸۹ مگر انہیں کے مسلمات سے ان کو ساکت کیا جاسکتا ہے۔ہم دونوں بہت جگہ پھرے۔لیکن کسی نے کتابیں دینے کا اقرار نہ کیا۔امام گلی میں مولوی محمد حسین صاحب فقیر رہتے تھے انہوں نے وعدہ کیا کہ جس قدر کتابوں کی ضرورت ہو کل لے جانا۔اگلے روز جب ہم گئے تو وہ نہ ملے اور ان کے بیٹوں نے ہمیں گالیاں دینی شروع کر دیں کہ جو ملحدوں کی مدد کرے وہ بھی ملحد ہے۔ہم دونوں ان کے پاس سے اٹھ کر چلے آئے۔پیر سراج الحق تو مجھ سے علیحدہ ہو کر کہیں چلے گئے۔میں تھوڑی دور کھڑا ہو کر ان سے سخت کلامی کرنے لگ گیا۔وہاں آدمی جمع ہو گئے اور مجھ سے پوچھنے لگے کہ کیا بات ہے۔میں نے کہا کہ امام اعظم کو یہ برا کہتے ہیں۔وہ کہنے لگے ہمیں معلوم ہے یہ بڑے بے ایمان ہیں۔یہ چھپے ہوئے وہابی ہیں۔وہابیوں کی مسجد میں نماز پڑھنے جایا کرتے ہیں۔چنانچہ وہ لوگ میرے ساتھ ہو کر ان کے خلاف ہو گئے۔پھر میں وہاں سے چلا آیا۔جب امام صاحب کے مکان کے آگے سے گزرے تو انہوں نے مجھے اشارے سے اپنی بیٹھک میں بلا لیا اور کہنے لگے کہ اگر آپ کسی سے ذکر نہ کریں تو جس قدر کتا بیں مطلوب ہوں میں دے سکتا ہوں۔میں نے کہا آپ اتنا احسان فرما ئیں تو میں کیوں ذکر کرنے لگا۔کہنے لگے کہ جب مرزا صاحب مولوی نذیرحسین سے قسم لینے کے لئے جامع مسجد میں بیچ کے دروازے میں بیٹھے ہوئے تھے۔اس وقت میں دیکھتا تھا کہ انوار الہی آپ پر نازل ہوتے ہیں اور ان کی پیشانی سے نشانِ نبوت عیاں تھی۔مگر میں اپنی اس عقیدت کو ظاہر نہیں کر سکتا۔خیر میں کتابیں لے کر چلا آیا اور حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیں۔آپ بہت خوش ہوئے۔اس پر دہلی والوں نے کہا تھا ( ہولی ہے بھئی ہولی ہے پاس کتابوں کی جھولی ہے ) تفسیر مظہری اور صحیح بخاری دستیاب نہ ہوئی تھیں۔اس زمانے میں مولوی رحیم بخش صاحب فتح پوری مسجد کے متولی تھے۔وہ سید امام علی شاہ رنڑ چھت والوں کے خلیفہ