اصحاب احمد (جلد 4) — Page 173
۱۷۳ میں ہمنشی اروڑا صاحب اور محمد خاں صاحب سوتے تھے۔دو بجے رات کے حضرت صاحب او پر تشریف لائے اور فرمایا۔حیات خاں کا کیا حال ہے۔ہم میں سے کسی نے کہا کہ شاید مرگیا ہو۔فرمایا کہ جا کر دیکھو۔اسی وقت ہم تینوں یا اور کوئی بھی ساتھ تھا باغ میں گئے تو حیات خاں قرآن شریف پڑھتا اور ٹہلتا پھرتا تھا۔اور اس نے کہا میرے پاس آجاؤ۔میرے گلٹی اور بخار نہیں رہا۔میں اچھا ہوں۔چنانچہ ہم اس کے پاس گئے تو کوئی شکایت اس کو باقی نہ تھی۔ہم نے عرض کی۔کہ حضور اس کو تو بالکل آرام ہے۔آپ نے فرمایا ساتھ کیوں نہیں لیتے آئے۔پھر یاد نہیں وہ کس وقت آیا۔غالباً صبح کو آیا۔چونکہ اس کے باپ کو تار دیا گیا تھا۔اور ہم تینوں یہ عظیم الشان معجزہ دیکھ کر اجازت لے کر قادیان سے روانہ ہو گئے۔نہر پر اس کا باپ ملا جو یکہ دوڑائے آ رہا تھا۔اس نے ہمیں دیکھ کر پوچھا کہ حیات کا کیا حال ہے۔ہم نے یہ سارا قصہ سنایا۔وہ یہ سن کر گر پڑا۔دیر میں اسے ہوش آیا۔اور پھر وہ وضو کر کے نوافل پڑھنے لگ گیا اور ہم چلے آئے۔۶۱۔کلکتہ کا ایک برہمن مجسٹریٹ خدا تعالیٰ کی ہستی کا قائل نہ تھا۔وہ قادیان آیا اور حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی کہ میں خدا کا قائل نہیں ہوں اور سنی سنائی باتوں پر یقین نہیں رکھتا کیا آپ مجھے خدا دکھا دیں گے۔آپ نے فرمایا کہ اگر آپ کچھ عرصہ ہمارے پاس ٹھہریں گے تو ہم آپ کو دکھا دیں گے۔اور یہ دریافت فرمایا کہ آپ کچھ عرصہ ٹھہر سکتے ہیں۔اس نے کہا میں چھ ماہ کی رخصت پر ہوں۔اور میں یہ سارا عرصہ ٹھہر سکتا ہوں۔بشرطیکہ آپ خدا مجھے دکھا دیں۔حضور نے فرمایا کہ آپ لنڈن گئے ہیں اس نے کہا نہیں۔فرمایا لندن کوئی شہر ہے اس نے کہا ہے سب جانتے ہیں۔فرمایا آپ لا ہور تشریف لے گئے ہیں اس نے کہا میں لاہور میں بھی نہیں گیا۔فرمایا قادیان آپ کبھی پہلے بھی تشریف لائے تھے۔اس