اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 162 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 162

۱۶۲ ۴۵۔ایک دفعہ منشی اروڑا صاحب۔محمد خاں صاحب اور خاکسار قادیان سے رخصت ہونے لگے۔گرمیوں کا موسم تھا اور گرمی بہت سخت تھی۔اجازت اور مصافحہ کے بعد منشی اروڑا صاحب نے کہا کہ حضور گرمی بہت - بہت ہے۔ہمارے لئے دعا فرمائیں کہ پانی ہمارے اوپر اور نیچے ہو۔حضور نے فرمایا خدا قادر ہے۔میں نے عرض کی حضور یہ دعا انہیں کے لئے فرمانا میرے لئے نہیں کہ ان کے اوپر نیچے پانی ہو۔قادیان سے یکہ سے سوار ہو کر ہم تینوں چلے تو خاکروبوں کے مکانات سے ذرا آگے نکلے تھے کہ یکدم بادل آکر سخت بارش شروع ہوگئی۔اس وقت سڑک کے گر دکھائیاں بہت گہری تھیں۔تھوڑی دور آگے جا کر یکہ الٹ گیا۔منشی اروڑا صاحب بدن کے بھاری تھے وہ نالی میں گر گئے اور محمد خان صاحب اور میں کود پڑے۔منشی اروڑا صاحب کے اوپر نیچے پانی اور وہ ہنستے جاتے ہیں۔۵۲ ۴۶۔ایک دفعہ حضور دہلی سے واپسی پر امرتسر اترے۔حضرت ام المومنین بھی ہمراہ تھیں۔حضور نے ایک صاحبزادے کو جو غالباً میاں بشیر احمد صاحب تھے گود میں لیا۔اور ایک وزنی بیگ دوسری بغل میں لیا۔مجھے فرمایا کہ آپ پاندان لے لیں۔میں نے کہا حضور مجھے یہ بیگ دے دیں۔آپ نے فرمایا نہیں۔ایک دو دفعہ میرے کہنے پر حضور نے یہی فرمایا۔تو میں نے پاندان اٹھالیا۔اور ہم چل پڑے۔اتنے میں دو تین جوان عمر انگریز جوٹیشن پر تھے۔انہوں نے مجھ سے کہا کہ حضور سے کہوں کہ ذرا کھڑے ہو جائیں۔چنانچہ میں نے عرض کی۔کہ حضور یہ چاہتے ہیں کہ حضور ذرا کھڑے ہو جائیں۔حضور کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اسی حالت میں حضور کا فوٹو لے لیا۔۴۷۔مقدمہ کرم دین میں حضرت صاحب کا تار میرے نام آیا کہ آپ شہادت کے لئے گورداسپور پہنچیں۔میں فوراً گورداسپور روانہ ہو گیا۔کرم