اصحاب احمد (جلد 4) — Page 113
۱۱۳ مگر جب اس کی خواہش کے پورا ہونے کا وقت آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی حکمت اس کو اس رنگ میں خوشی حاصل کرنے سے محروم کر دیتی ہے جس رنگ میں وہ اسے دیکھنا چاہتا تھا۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ منشی اروڑے خان صاحب مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ مجھے بعض غیر احمدی دوستوں نے کہا۔تم ہمیشہ ہمیں تبلیغ کرتے رہتے ہو۔فلاں جگہ مولوی ثناء اللہ صاحب آئے ہوئے ہیں۔تم بھی چلو اور ان کی باتوں کا جواب دو۔منشی اروڑے خاں صاحب مرحوم کچھ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔دوران ملازمت میں ہی انہیں پڑھنے لکھنے کی جو مشق ہوئی وہی انہیں حاصل تھی۔وہ کہنے لگے جب ان دوستوں نے اصرار کیا۔تو میں نے کہا اچھا چلو۔چنا نچہ وہ انہیں جلسہ میں لے گئے۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے احمدیت کے خلاف تقریر کی اور اپنی طرف سے خوب دلائل دیئے جب تقریر کر کے وہ بیٹھ گئے تو منشی اروڑے خان صاحب سے ان کے دوست کہنے لگے کہ بتائیں ان دلائل کا کیا جواب ہے۔منشی اروڑے خان صاحب فرماتے تھے۔میں نے ان سے کہا یہ مولوی ہیں اور میں ان پڑھ آدمی ہوں۔ان کی دلیلوں کا جواب تو کوئی مولوی ہی دے گا میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں نے حضرت مرزا صاحب کی شکل دیکھی ہوئی ہے وہ جھوٹے نہیں ہو سکتے۔اسی طرح ایک دفعہ کسی دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک واقعہ سنایا جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی ہنسے اور مجلس میں بیٹھے ہوئے دوسرے لوگ بھی بہت محظوظ ہوئے۔منشی اروڑے خاں صاحب شروع میں قادیان بہت زیادہ آیا کرتے تھے۔بعد میں چونکہ بعض اہم کام ان کے سپرد ہو گئے اس لئے جلدی چھٹی ملنا ان کے لئے مشکل ہو گیا تھا۔مگر پھر بھی وہ قادیان اکثر آتے رہتے تھے۔ہمیں یاد ہے جب ہم چھوٹے بچے ہوا کرتے تھے تو ان کا آنا ایسا ہی ہوا کرتا تھا جیسے کوئی مدتوں کا بچھڑا ہوا بھائی سالہا سال کے بعد اپنے کسی عزیز سے ا