اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 106 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 106

1+7 ہر مخلص اس بات کو بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ اگر ایسے جنازہ میں شامل ہونے کی انسان کو مقدرت ہو تو اس کے لئے میلوں میل سفر کرنا بھی دوبھر نہیں ہوسکتا۔یہ محض ایک نفع مند سودا ہے اور اپنے فرض کی ادائیگی ہے۔بہر حال جن دوستوں کو ان کے جنازہ میں شریک ہونے کا موقعہ نہیں ملا ان کو اب جمعہ کے بعد انشاء اللہ موقعہ مل جائے گا۔اور چونکہ یہ ایک اہم واقعہ ہے اس لئے میں آج کا خطبہ بھی اسی مضمون کے متعلق پڑھنا چاہتا ہوں اور جماعت کے دوستوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ابتدائی زمانہ میں خدمات کی ہیں۔ایسی ہستیاں ہیں جو دنیا کے لئے ایک تعویذ اور حفاظت کا ذریعہ ہیں۔چونکہ یہ مغربیت کے زور کا زمانہ ہے اس لئے لوگ اس کی قدر نہیں جانتے اور وہ یہ نہیں سمجھتے۔کہ خدا تعالیٰ کا کس طرح یہ قانون ہے کہ پاس کی چیز بھی کچھ حصہ ان برکات کا لے لیتی ہے۔جو حصہ برکات کا اصل چیز کو حاصل ہوتا ہے۔قرآن کریم نے اس مسئلہ کو نہایت ہی لطیف پیرایہ میں بیان فرمایا اور لوگوں کو سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی کی بیویاں تمہاری مائیں ہیں۔یہ بات تو ظاہر ہی ہے کہ نبی کی بیویاں نبی نہیں ہوتیں۔پھر ان کو مومنوں کی مائیں کیوں قرار دیا گیا ہے۔اسی لئے کہ اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ ایسے آدمی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص طور پر برکات لے کر آتے ہیں۔ان کے ساتھ گہرا تعلق رکھنے والا انسان بھی کچھ حصہ ان برکات سے پاتا ہے جو اسے حاصل ہوتی ہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں جب کبھی بارش نہیں ہوتی تھی اور نماز استسقاء ادا کرنی پڑتی تھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس طرح دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے خدا پہلے جب کبھی بارش نہیں ہوتی تھی اور ہماری تکلیف بڑھ جاتی تھی تو ہم تیرے نبی کی برکت سے دعا مانگا کرتے تھے اور تو اپنے فضل سے بارش برساد یا کرتا تھا مگر اب تیرا نبی ہم میں موجود نہیں۔اب ہم اس