اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 101 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 101

1+1 بعد انشاء اللہ تعالیٰ ان کا جنازہ پڑھوں گا۔مجھے نہیں معلوم کہ کس حد تک یہاں کے لوگوں کو اس جنازہ کا علم ہوا۔اور وہ کس حد تک اس میں شامل ہوئے۔لیکن بہر حال جو لوگ ان کے جنازہ میں شامل نہیں ہو سکے تھے اب ان کو بھی موقع مل جائے گا۔اور جو لوگ شامل ہو چکے ہیں۔انھیں دوبارہ دعا کا موقعہ مل جائے گا۔مومن کے لیے دعا اس کے لیئے دعا نہیں ہوتی بلکہ خود اپنے لیئے بھی دعا ہوتی ہے۔بعض لوگ جنازہ کے متعلق یہ خیال کر لیتے ہیں کہ یہ صرف مرنے والے کے لیئے دعا ہے اور وہ اس پر احسان کرنے چلے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ کو مومن کے لیئے اتنی غیرت ہوتی ہے کہ وہ کسی کے احسان کو برداشت نہیں کر سکتا بلکہ مخالف سے مخالف انسان بھی اگر کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جو خدا کے کسی بندے کے لیئے یا اس کے سلسلہ کے لیئے مفید ہوتی ہے اور وہ اس کی خدمت قرار دی جاسکتی ہے تو مومن بھی اپنی غیرت سے اس کا صلہ دیے بغیر نہیں رہتا اور خدا بھی اپنی غیرت سے اس کا صلہ دیئے بغیر نہیں رہتا۔مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد صدر انجمن احمدیہ میں ایک دو دفعہ یہ سوال پیش ہوا کہ : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے لئے گزارہ کی کیا صورت کی جائے۔میرے لئے تکلیف دہ امر یہ تھا۔کہ میں خود صدر انجمن احمد یہ کا ممبر تھا اور مجھے بھی وہاں جانا پڑتا تھا۔اس وقت اور ممبر بعض دفعہ اس رنگ میں بات کرتے تھے کہ جس کو بعد میں سن کر بھی تکلیف ہوتی ہے۔کجا یہ کہ انسان کے بیٹھے ہوئے کی جائے۔مگر سوائے اس کے کہ میں سن کر خاموش رہتا میرے لئے اور کوئی چارہ نہیں تھا۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایسی ہی باتیں ہورہی تھیں جو تکلیف دہ تھیں۔خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم بیٹھے ہوئے تھے۔مخالفت کے لحاظ سے وہ دوسروں سے پیچھے نہیں تھے۔گو